Express News:
2026-06-03@02:31:44 GMT

ٹیم سیالکوٹ کے 90 فیصد شیئرز نئی پارٹی خریدنے پر آمادہ

اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT

کراچی:

ٹیم سیالکوٹ کے 90 فیصد شیئرز نئی پارٹی خریدنے پر آمادہ ہوگئی، او زی گروپ کو سابقہ پارٹنرز کی دستبرداری کے سبب مالی ذمہ داریاں سرانجام دینے میں مشکلات کا سامنا تھا۔

عدم ادائیگی پر بورڈ کے پاس بینک گارنٹی کیش کرانے کا آپشن موجود ہوتا، اس حوالے سے آئندہ ہفتے پیش رفت سامنے آئے گی۔

دوسری جانب، وسیم اکرم نے تصدیق کی کہ وہ سیالکوٹ اسٹالینز کے صدر نہیں رہے، ان کے مطابق کوئی معاہدہ نہیں ہوا صرف زبانی بات چیت ہوئی تھی۔

تفصیلات کے مطابق پی سی بی نے گزشتہ ماہ پی ایس ایل کی ساتویں ٹیم کنگز مین کو ایک ارب 75 کروڑ جبکہ  آٹھویں ٹیم او زی گروپ کو ایک ارب 85کروڑ روپے میں فروخت کی تھی، امریکی کمپنی نے تو وقت پر واجبات ادا کر دیے، البتہ آسٹریلوی گروپ کو مالی مشکلات کا سامنا رہا۔

ذرائع نے بتایا کہ نیلامی کے وقت ہی جب بڈز بڑھتی رہیں تو اوزی کے پارٹنرز کو تشویش ہوئی، درمیان میں وقفہ لے کر فون پر دونوں کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا، جب بڈ جیت لی تو سیالکوٹ اور سوئٹزر لینڈ سے تعلق رکھنے والے دونوں پارٹنرز نے رقم زیادہ ہونے کا جواز دے کر دستبرداری اختیار کر لی۔

او زی گروپ نے خاصی تاخیر سے بینک گارنٹی جمع کرائی جس سے معاہدہ ختم ہونے سے بچ گیا، البتہ فیس کی ادائیگی میں اسے مشکلات کا سامنا رہا، ایسے میں ایک نئی پارٹی کو 75 فیصد شیئرز فروخت کرنے پر اتفاق ہوا، اس کے اونر محمد شاہد سے رقم لیے بغیر ہی لاہور اور کراچی میں پریس کانفرنس کا انعقاد بھی کر لیا گیا لیکن کچھ بھی نہ ملنے پر پھر نئے پارٹنر کی تلاش شروع ہوئی، اس پر جس پارٹی سے پہلے بات ہوئی تھی اس نے سنگین الزامات بھی عائد کیے۔

مزید پڑھیں

پی ایس ایل میں شامل نئی فرنچائز سے متعلق تنازعات کھل کر سامنے آگئے

اس صورتحال میں پی سی بی کے پاس بینک گارنٹی کیش کراتے ہوئے معاہدہ منسوخ کرنے کا آپشن موجود تھا، البتہ درمیانی راہ نکالنے کی کوشش جاری رہی۔

ذرائع نے بتایا کہ بڈنگ میں ناکام رہنے والی ایک پارٹی 90 فیصد سے زائد شیئرز لینے پر آمادہ ہو چکی، اس سے اوزی گروپ کا انتظامی معاملات پر کنٹرول ختم ہو جائے گا۔ قوانین کے تحت تین سال سے قبل 100 فیصد شیئرز کی منتقلی ممکن نہیں ہے، اسٹریٹیجک پارٹنر کی صورت میں نئی پارٹی آ سکے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ جب پی سی بی نے اپنے طور پر مزید تحقیقات کیں تو ایک اونر کے ماضی میں دیوالیہ ہونے کا انکشاف بھی سامنے آیا، البتہ نئی پارٹی مالی طور پر مستحکم نظر آتی ہے، آئندہ ہفتے اس حوالے سے کوئی اعلان متوقع ہوگا۔

دوسری جانب 75 فیصد شیئرز خریدنے کا دعویٰ کرنے والی کمپنی نے وسیم اکرم کو فرنچائز کا صدر مقرر کیا تھا، البتہ وہ اب اس عہدے پر برقرار نہیں ہیں۔

رابطے پر وسیم اکرم نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کوئی معاہدہ نہیں ہوا صرف فون پر ہی بات ہوئی تھی۔

یاد رہے کہ پریس کانفرنس میں وسیم اکرم کا ویڈیو بیان بھی چلایا گیا تھا، بعض حلقوں نے دعویٰ کیا کہ انھیں 10 فیصد شیئرز دینے کی بھی بات ہوئی تھی البتہ اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فیصد شیئرز وسیم اکرم نئی پارٹی ہوئی تھی

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔

اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔

قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

 

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا