زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر سندھ یونائٹیڈ پارٹی کی جانب سے ریلی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260222-4-4
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے سندھ یونائیٹڈ پارٹی لیڈیز ونگ کی جانب سے حیدرآباد پریس کلب کے سامنے سے مرکزی صدر یاسمین تھیبو، نادیہ سولنگی، عابدہ پروین مغل اور دیگر کی قیادت میں ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں شریک خواتین کارکنوں نے سندھی زبان کو قومی زبان قرار دینے کے حق میں نعرے لگائے۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ سندھ 5 ہزار سال پرانی قوم ہے جس کی اپنی زبان، اپنی ثقافت اور اپنی سرزمین ہے جس کی وجہ سے سندھ پوری دنیا میں جانا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انگریز دور میں سندھی زبان کو سندھ کی قومی زبان قرار دیا گیا تھا لیکن قیام پاکستان کے بعد اردو کو ملک کی قومی زبان کا درجہ دے کر سندھی زبان کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی لیکن اس کے باوجود سندھی زبان آج بھی اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے جب سندھ کے سرکاری اور نجی اسکولوں میں سندھی بچوں کو اردو پڑھائی جارہی ہے جو کہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق ہر بچے کو بنیادی تعلیم اس کی مادری زبان میں دی جانی چاہیے لیکن سندھ حکومت اور محکمہ تعلیم سندھ کی نااہلی کے باعث سندھی بچوں کو مادری زبان سے محروم کرکے اردو پڑھنے پر مجبور کیا جارہا ہے جو کہ انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ کے تعلیمی اداروں میں سندھی زبان میں تعلیم کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے تعلیمی ادارے اور اسکول انتظامیہ کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور رجسٹریشن منسوخ کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھی زبان
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔