اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) سابق وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ مقبولیت کے باوجود ہم عمران خان کو جیل سے نہیں نکال پارہے، ہماری نیت ٹھیک نہیں یا استعمال ہورہے ہیں۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ اگر ہمارے اندرونی معاملات ٹھیک ہوتے تو عمران خان جیل میں نہ ہوتے، ملک میں قانون اورآئین نہ ہونے کے ساتھ ہماری غلطیاں بھی ہیں۔ مقبولیت اور سپورٹ کے باوجود ہم عمران خان کو جیل سے نکالنے میں بار بار ناکام ہورہے ہیں۔ ہماری نادانی ہے نیت ٹھیک نہیں ہے یا پھر ہم استعمال ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی ذات کیلئے غصہ نہیں کررہا اپنے لیڈر کیلئے غصہ کررہا ہوں تو برداشت کرنا چاہیے، ہمیں پریشر بڑھانا ہوگا جو باتوں سے نہیں بڑھتا، ڈائیلاگ اور روزانہ ٹک ٹاک بنانے سے پریشر نہیں بڑھے گا، کسی پر الزام نہیں لگا رہا لیکن کوئی وجہ تو ہے جس سے پریشر کم ہوا، ٹی وی پر باتوں اور ٹک ٹاک پر دھمکی دینے سے بات نہیں بنے گی۔ دریں اثناء چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ علی امین گنڈا پور کے خلاف کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا۔ کارروائی کی باتیں من گھڑت ہیں۔ پارٹی اندرونی اختلافات کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ علی امین گنڈا پور نے ویڈیو بیان میں معافی مانگ کر بڑے پن کا مظاہرہ کیا۔ ہماری ترجیح صرف بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہونی چاہئے۔   

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: علی امین نے کہا

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع