عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے
، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے
سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلے ہر حد پر لڑیں گے۔ انڈپینڈنٹ اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان جیل میں ہیں اور ہم ان کے پیغام رساں ہیں، علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ دینے کا پیغام عمران خان نے ہمارے ہاتھ نہیں بھیجا تھا بلکہ جیل میں میڈیا کو کہا تھا، جو وہ عمران خان کو نہیں کہہ سکتے وہ ان کی فیملی کو کہہ دیتے ہیں چونکہ وہ ان ہی کے بدولت بیٹھے ہوئے ہیں تو انہیں کچھ کہہ نہیں سکتے، جب یہ ہمیں کہتے ہیں تو اصل میں انہیں غصہ عمران خان پر ہے، بولنے والوں کو اگر ان کی صحت کی فکر ہوتی تو ان کی شکلوں پر نظر آ جاتی، اگر یہ محسن نقوی کی زبان بولیں گے تو ہمیں فرق نہیں پڑتا اگر یہ نہیں لڑنا چاہتے تو سائیڈ پر ہو جائیں، میرے بھائی کی آنکھ سیاست نہیں ہے، ہمارے خاندان کی ترجیح ان کی صحت ہے۔ایک سوال پر علیمہ خان نے جواب دیا کہ ہمیں یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ کوئی جیل میں جا رہا ہے ہمیں یہی تو جھٹکا ملا ہے، ہم سے آج تک کسی نے بات نہیں کی، صرف ایک کا مجھے معلوم ہے جب چار اگست کو کہا تھا کہ آپ کو سیف ایگزٹ دیتے ہیں آپ ملک چھوڑ کر چلے جائیں، جس پر عمران خان نے کہا مجھ پر بنائے گئے سارے کیسز جھوٹے ہیں اور میں ان کا سامنا کروں گا، عمران خان سے میری آخری ملاقات گذشتہ برس 16 اکتوبر کو ہوئی تھی۔ان کا کہنا ہے کہ عمران خان خود کہتے تھے کہ اس کے بعد تین مہینے تک ان کی نظر بالکل ٹھیک تھی، اگست میں ایک ملاقات کے دوران ہم نے دیکھا کہ ان کی آنکھ تھوڑی سی لال تھی، ہم نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ کچھ نہیں ہوا، اس کے باوجود ہم نے عدالت میں درخواست دائر کر دی کہ عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کروایا جائے، اگلی ملاقات میں عمران خان سے ان کی آنکھ سے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا اب ٹھیک ہے، آنکھوں میں ڈراپس ڈالے تھے اور میرا نظر کا نمبر تبدیل ہوا ہے۔علیمہ خان نے بتایا کہ تین یا چار دسمبر کو میری بہن کی عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات ہوئی جہاں ان کی بیٹی بھی موجود تھیں، اس وقت عمران خان نے نہیں کہا کہ میری آنکھ میں کوئی تکلیف ہے بعد ازاں پمز کی ٹیم نے جب ان کا معائنہ کیا تو انہیں بتایا کہ اگر ہم نہ آتے تو آپ کی آنکھ مکمل طور پر ضائع ہو جاتی، ہمیں ڈاکٹروں نے بتایا اگر ایک آنکھ میں یہ مسئلہ ہے تو دوسری میں بھی ہو جائے گا، یہ تمام باتیں ڈاکٹروں نے عمران خان کو بتائیں جو انہوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے بھیجے گئے وکیل سلمان صفدر کو بتائیں۔سابق وزیراعظم کی بہن نے یہ بھی بتایا کہ بیٹوں سے گفتگو کے دوران عمران خان پریشان تھے کہ انہیں ایک آنکھ سے نظر نہیں آ رہا، دوسری آنکھ میں بھی ایسا ہو سکتا ہے، بیٹوں سے 20 منٹ کے لیے بات ہوئی جو ٹوٹ ٹوٹ کر ہوتی رہی، فون ڈراپ ہوتا اور پھر ری کنکٹ ہوتا تھا، وہ پریشان تھے کہ مجھے ایک آنکھ میں نظر نہیں آ رہا، دوسری آنکھ میں ایسا ہو سکتا ہے، پھر ہم پریشان نہ ہوں؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کہ عمران خان عمران خان کی ایک ا نکھ ا نکھ میں انہوں نے کی ا نکھ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔