سوشل میڈیا انفلوئنسر ڈاکٹر نبیہا علی خان کے الزامات پر ان کے شوہر حارث کھوکھر کا مؤقف سامنے آگیا ہے۔

ویڈیو بیان میں حارث کھوکھر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر نبیہا شک اور وہم کا شکار ہیں جس کا کوئی علاج نہیں ہوسکتا، ان کے بقول دونوں کے درمیان کوئی سنجیدہ اختلاف نہیں تھا اور وہ اپنے گھر کی نسبت ان کے ساتھ زیادہ خوش تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے نیا کاروبار شروع کیا تو ڈاکٹر نبیہا کا مطالبہ تھا کہ وہ جہاں بھی جائیں انہیں ساتھ لے کر جائیں۔ حارث کے مطابق پیشہ ورانہ ملاقاتوں، دوستوں کی محفلوں یا دیگر سماجی سرگرمیوں میں بیوی کو ساتھ بٹھانا مناسب نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ جب بھی کام کے لیے گھر سے نکلنے کا ارادہ کرتے تو ڈاکٹر نبیہا کو شبہ ہوتا کہ وہ کسی اور جگہ جا رہے ہیں۔ حارث نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے زندگی میں کوئی غلط یا غیر قانونی کام نہیں کیا، تاہم ان کی اہلیہ بدگمانی اور وہم میں مبتلا رہتی ہیں۔

حارث کھوکھر نے مزید کہا کہ وہ گھر اور خاندان کی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہر جگہ اہلیہ کو ساتھ لے جانا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق مسئلہ صرف بداعتمادی اور منفی سوچ کا ہے، جبکہ ان کے درمیان نہ کوئی جھگڑا ہوا، نہ مارپیٹ اور نہ ہی انہوں نے کبھی گالی دی۔

واضح رہے ڈاکٹر نبیہا علی خان نے گزشتہ سال حارث کھوکھر سے منگنی اور شادی کا اعلان کر کے مداحوں کو حیران کر دیا تھا۔ تاہم شادی کے چند ماہ بعد ہی دونوں کے درمیان اختلافات کی خبریں گردش کرنے لگی تھیں۔ 

حال ہی میں ڈاکٹر نبیحہ نے ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کی شادی اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے،  رشتہ ابھی ختم نہیں ہوا، مگر حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ بات طلاق تک جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر نبیہا کا کہنا تھا کہ اگر ان کا گھر ٹوٹا تو اس کے ذمہ دار ان کے شوہر کے گھر والے ہوں گے۔ ان کے مطابق حارث کھوکھر اپنے والدین کی باتوں میں آ کر ان کے ساتھ ناروا رویہ اختیار کرتے ہیں۔

ڈاکٹر نبیہا نے سوال اٹھایا کہ اگر گھر والوں کو پہلے سے کوئی اور رشتہ منظور تھا تو انہیں اس شادی میں کیوں شامل کیا گیا۔ اپنے شوہر کی محبت میں اپنی ساس کی دن رات خدمت کی، گھر کے تمام کام انجام دیے اور اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات بھی کم کر دیں تاکہ شادی شدہ زندگی کو وقت دے سکیں۔ ان کے مطابق وہ اپنا گھر بچانا چاہتی تھیں، مگر اس کے باوجود حالات بہتر نہ ہو سکے

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر نبیہا حارث کھوکھر انہوں نے کے مطابق تھا کہ

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا