بانی تحریک منہاج القرآن نے کہا کہ جب تک نئی نسل کی تربیت سیدہ کائناتؑ کے اسوہ پر نہیں ہوگی، باوقار اور روشن مستقبل کی تشکیل ممکن نہیں۔ دیگر مقررین نے کہا کہ حضرت امام حسنؑ، حضرت امام حسینؑ اور حضرت زینبؑ جیسی عظیم شخصیات کی تربیت سیدہ فاطمہ الزہراؑ کے مثالی کردار کا عملی ثبوت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بانی و سرپرست اعلیٰ منہاج القرآن انٹرنیشنل ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا کہ سیدہ فاطمہ الزہراء کی حیاتِ مبارکہ رہتی دنیا تک خواتین کے لیے کامل اسوۂ حسنہ ہے۔ آپؑ نے بیٹی، زوجہ اور والدہ کی حیثیت سے صبر، حیا، قناعت اور اعلیٰ کردار کی جو مثال قائم کی وہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے، آج کے دور میں خاندانی و اخلاقی چیلنجز کا حل اسی میں ہے کہ ہم سیدہ کائناتؑ کے اسوہ کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ دریں اثناء منہاج القرآن ویمن لیگ کے زیراہتمام مرکزی سیکرٹریٹ میں سیدہ کائنات سیدہ فاطمہ الزہراء کے یومِ وصال کے موقع پر فکری نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ فکری نشست سے خطاب کرتے ہوئے ہیڈ کوآرڈینیشن کونسل منہاج القرآن ویمن لیگ لبنیٰ مشتاق نے کہا کہ عصرِ حاضر کی عورت کو سیدہ فاطمہ الزہراؑ کی صفاتِ عالیہ حیا، صبر، عبادت گزاری اور خاندانی ذمہ داریوں کے توازن کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک نئی نسل کی تربیت سیدہ کائناتؑ کے اسوہ پر نہیں ہوگی، باوقار اور روشن مستقبل کی تشکیل ممکن نہیں۔ دیگر مقررین نے کہا کہ حضرت امام حسنؑ، حضرت امام حسینؑ اور حضرت زینبؑ جیسی عظیم شخصیات کی تربیت سیدہ فاطمہ الزہراؑ کے مثالی کردار کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں آج کے دور میں خواتین اگر ان کی تعلیمات کو اپنالیں تو معاشرہ امن، سکون اور اخلاقی استحکام کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ فکری نشست میں حافظ سحر عنبرین، عائشہ مبشر، انیلا الیاس ڈوگر، صائمہ نور، عائشہ شبیر و دیگر نے شرکت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: منہاج القرا ن کی تربیت سیدہ سیدہ کائنات سیدہ فاطمہ نے کہا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار