سیدہ کائنات ؑکی حیاتِ مبارکہ خواتین کے لیے کامل نمونہ ہے، ڈاکٹر طاہرالقادری
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
بانی تحریک منہاج القرآن نے کہا کہ جب تک نئی نسل کی تربیت سیدہ کائناتؑ کے اسوہ پر نہیں ہوگی، باوقار اور روشن مستقبل کی تشکیل ممکن نہیں۔ دیگر مقررین نے کہا کہ حضرت امام حسنؑ، حضرت امام حسینؑ اور حضرت زینبؑ جیسی عظیم شخصیات کی تربیت سیدہ فاطمہ الزہراؑ کے مثالی کردار کا عملی ثبوت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بانی و سرپرست اعلیٰ منہاج القرآن انٹرنیشنل ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا کہ سیدہ فاطمہ الزہراء کی حیاتِ مبارکہ رہتی دنیا تک خواتین کے لیے کامل اسوۂ حسنہ ہے۔ آپؑ نے بیٹی، زوجہ اور والدہ کی حیثیت سے صبر، حیا، قناعت اور اعلیٰ کردار کی جو مثال قائم کی وہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے، آج کے دور میں خاندانی و اخلاقی چیلنجز کا حل اسی میں ہے کہ ہم سیدہ کائناتؑ کے اسوہ کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ دریں اثناء منہاج القرآن ویمن لیگ کے زیراہتمام مرکزی سیکرٹریٹ میں سیدہ کائنات سیدہ فاطمہ الزہراء کے یومِ وصال کے موقع پر فکری نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ فکری نشست سے خطاب کرتے ہوئے ہیڈ کوآرڈینیشن کونسل منہاج القرآن ویمن لیگ لبنیٰ مشتاق نے کہا کہ عصرِ حاضر کی عورت کو سیدہ فاطمہ الزہراؑ کی صفاتِ عالیہ حیا، صبر، عبادت گزاری اور خاندانی ذمہ داریوں کے توازن کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جب تک نئی نسل کی تربیت سیدہ کائناتؑ کے اسوہ پر نہیں ہوگی، باوقار اور روشن مستقبل کی تشکیل ممکن نہیں۔ دیگر مقررین نے کہا کہ حضرت امام حسنؑ، حضرت امام حسینؑ اور حضرت زینبؑ جیسی عظیم شخصیات کی تربیت سیدہ فاطمہ الزہراؑ کے مثالی کردار کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں آج کے دور میں خواتین اگر ان کی تعلیمات کو اپنالیں تو معاشرہ امن، سکون اور اخلاقی استحکام کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ فکری نشست میں حافظ سحر عنبرین، عائشہ مبشر، انیلا الیاس ڈوگر، صائمہ نور، عائشہ شبیر و دیگر نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: منہاج القرا ن کی تربیت سیدہ سیدہ کائنات سیدہ فاطمہ نے کہا کہ
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔