ٹریلر کا پولیس وین سے تصادم، 5 اہلکار ہلاک، متعدد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
بھارتی ریاست اوڑیسہ کے جھارسوگڑا میں ایک تیز رفتار ٹریلر کے پولیس وین سے ٹکر مارنے کے واقعے میں 5 پولیس اہلکار ہلاک اور 3 شدید زخمی ہو گئے۔
حادثہ ادارش ویدیالا جھارسوگڑا کے سامنے، صدر پولیس اسٹیشن کے حدود میں پیش آیا۔ پولیس اہلکار وین میں ڈیوٹی پر تھے کہ مخالف سمت سے آنے والے بھاری ٹریلر نے ان سے ٹکرا دیا۔
یہ بھی پڑھیے: روس کی جھیل بائیکال میں برف ٹوٹنے سے چینی سیاحوں کی بس حادثے کا شکار، 8 افراد ہلاک
ہلاک ہونے والوں کی شناخت کشی رام بھوئی اور دیب ادوتا سا، نیرنجن کجور، لنگراج دھروہ اور بھکتابندھو مرڈھا کے طور پر کی گئی ہے۔
مقامی افراد زخمیوں کو فوری طور پر امداد کے لیے اسپتال لے گئے۔ 5 اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 3 زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ زخمیوں میں سے 2 کی حالت بگڑنے پر انہیں ویمسار میڈیکل کالج، بورلا اور بعد میں پرائیویٹ اسپتال، بارگارہ منتقل کیا گیا۔ زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: مصر میں بھیانک ٹریفک حادثہ، 18 افراد جاں بحق، 3 زخمی
حادثے کے دوران ٹریلر کا ڈرائیور بھی زخمی ہوا اور اسے جھارسوگڑا کے ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔
جھارسوگڑا کے ایڈیشنل ایس پی مدھوسکتا مشرا نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور سینئر پولیس افسران نے حادثہ گاہ کا دورہ کر کے صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔