حیدرآباد میں بھی پولیس دربار کا انعقاد کیا جائے‘شہری
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260222-08-20
حیدرآباد (نمائندہ جسارت) سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں تفتیشی پولیس شدید انتظامی و مالی مسائل کا سامنا کررہی ہے، جس کے باعث تفتیشی ونگ کی کارکردگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق تفتیشی افسران علیحدہ دفاتر، کمپیوٹر سمیت دیگر بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں، جو وزارت داخلہ اور پولیس قیادت کی عدم دلچسپی کی واضح دلیل ہے، اس کے علاوہ کسی بھی مقدمے کی تفتیش کے لیے تفتیشی افسران کو فنڈز بھی بروقت فراہم نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے شواہد اکٹھے کرنے، ایک شہر سے دوسر ے شہر تک کے سفر میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اکثر و بیشتر تفتیشی افسران جیب سے ہی اخراجات اٹھانے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں، حیران کن طور پر تفتیشی افسران کو علیحدہ سے پولیس موبائل، موٹر سائیکلیں فراہم کی گئی ہیں اور نہ ہی سرکاری سطح پر فیول کی سہولت میسر ہے، جو زیر التواء مقدمات کی پیشرفت پر منفی اثرات مرتب کررہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ضلع حیدرآباد میں سینئر انوسٹی گیشن افسران کے اختیارات بھی تھانوں کے ایس ایچ اوز کے پاس ہیں، جو شفاف تحقیقات کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھے جارہے ہیں جب کہ تفتیشی ونگ کے علیحدہ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی عدم تعیناتی سے بھی انتظامی خلاپیدا ہوچکا۔ شہری و سماجی حلقوں کا موقف ہیکہ جب تک تفتیشی افسران کو مکمل انتظامی خود مختاری نہیں دی جاتی، غیر جانبدارانہ تحقیقات ممکن نہیں، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ،وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار اور آئی جی جاوید عالم اوڈھو سے اپیل ہے کہ کراچی کی طرز پر حیدرآباد میں بھی پولیس دربار کا انعقاد کیا جائے تاکہ پولیس افسران اور اہلکاروں کو درپیش مسائل براہ راست سنے جاسکیں اور ان کا موثر حل بھی نکالا جاسکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تفتیشی پولیس کو فوری بنیادی سہولیات، فنڈز کی بروقت فراہمی، ٹرانسپورٹ اور مکمل اختیارات فراہم کیے جائیں تاکہ جرائم کی شفاف اور موثر تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تفتیشی افسران
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔