Jasarat News:
2026-07-24@03:56:01 GMT

حیدرآباد میں بھی پولیس دربار کا انعقاد کیا جائے‘شہری

اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260222-08-20
حیدرآباد (نمائندہ جسارت) سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں تفتیشی پولیس شدید انتظامی و مالی مسائل کا سامنا کررہی ہے، جس کے باعث تفتیشی ونگ کی کارکردگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق تفتیشی افسران علیحدہ دفاتر، کمپیوٹر سمیت دیگر بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں، جو وزارت داخلہ اور پولیس قیادت کی عدم دلچسپی کی واضح دلیل ہے، اس کے علاوہ کسی بھی مقدمے کی تفتیش کے لیے تفتیشی افسران کو فنڈز بھی بروقت فراہم نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے شواہد اکٹھے کرنے، ایک شہر سے دوسر ے شہر تک کے سفر میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اکثر و بیشتر تفتیشی افسران جیب سے ہی اخراجات اٹھانے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں، حیران کن طور پر تفتیشی افسران کو علیحدہ سے پولیس موبائل، موٹر سائیکلیں فراہم کی گئی ہیں اور نہ ہی سرکاری سطح پر فیول کی سہولت میسر ہے، جو زیر التواء مقدمات کی پیشرفت پر منفی اثرات مرتب کررہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ضلع حیدرآباد میں سینئر انوسٹی گیشن افسران کے اختیارات بھی تھانوں کے ایس ایچ اوز کے پاس ہیں، جو شفاف تحقیقات کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھے جارہے ہیں جب کہ تفتیشی ونگ کے علیحدہ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی عدم تعیناتی سے بھی انتظامی خلاپیدا ہوچکا۔ شہری و سماجی حلقوں کا موقف ہیکہ جب تک تفتیشی افسران کو مکمل انتظامی خود مختاری نہیں دی جاتی، غیر جانبدارانہ تحقیقات ممکن نہیں، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ،وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار اور آئی جی جاوید عالم اوڈھو سے اپیل ہے کہ کراچی کی طرز پر حیدرآباد میں بھی پولیس دربار کا انعقاد کیا جائے تاکہ پولیس افسران اور اہلکاروں کو درپیش مسائل براہ راست سنے جاسکیں اور ان کا موثر حل بھی نکالا جاسکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تفتیشی پولیس کو فوری بنیادی سہولیات، فنڈز کی بروقت فراہمی، ٹرانسپورٹ اور مکمل اختیارات فراہم کیے جائیں تاکہ جرائم کی شفاف اور موثر تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تفتیشی افسران

پڑھیں:

’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 

پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز،  915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ 

متعلقہ مضامین

  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو