چیئرمین نیب کی تقرری کا معاملہ، پاکستان نے آئی ایم ایف سے ایکشن پلان شیئر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ساتھ ایک عملی منصوبہ شیئر کیا ہے جس کے تحت قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کی تقرری کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے گا، اعلیٰ وفاقی سرکاری افسران کے اثاثوں کے گوشوارے 2026 میں شائع کیے جائیں گے اور اثاثوں کی خطرات کی بنیاد پر جانچ کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔ نیب چیئرمین کی تقرری کا نیا طریقہ کار وفاقی کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
آئی ایم ایف کا جائزہ مشن 25 فروری سے 11 مارچ 2026 تک پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ 7 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت اور 1.
دورے کے دوران طرزِ حکمرانی، بدعنوانی کی تشخیص اور اہم نگران اداروں کے سربراہان کی تقرری سے متعلق پاکستان کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ حکومت نے اتفاق کیا ہے کہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور نیب جیسے اداروں کے سربراہان کی تقرری کے قانونی ڈھانچے کو مؤثر بنایا جائے گا تاکہ میرٹ پر مبنی انتخاب کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ اقدامات 27 جون تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
مزید برآں، حکمرانی اور بدعنوانی سے متعلق تشخیصی رپورٹ کے تناظر میں پاکستان کی پیش رفت بھی اس جائزہ مشن کا اہم حصہ ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔