جولانی حکومت کے خلاف داعش کا اعلانِ جنگ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
ترجمان ابو حذیفہ الانصاری نے کہا کہ نیا شامی نظام، اپنی سیکولر حکومت اور قومی فوج کے ساتھ، کافر اور مرتد ہے۔ اسلام ٹائمز۔ تکفیری دہشت گرد تنظیم داعش کے ترجمان نے ایک صوتی پیغام میں اس گروہ کے ارکان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ داعش کے پرچم تلے شام کی نئی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کریں۔ اس پیغام میں داعش کے ترجمان نے اپنے حامیوں کو ہدایت کی کہ وہ الجولانی کی سربراہی میں بننے والی حکومت کو نشانہ بنائیں اور اس کے خلاف کارروائیاں تیز کریں، جسے اس گروہ نے اپنے اہداف کے منافی قرار دیا ہے۔
دہشت گرد گروہ داعش نے اپنے ارکان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام کی نئی حکومت کے خلاف جنگ کریں۔ یہ اپیل اس گروہ کے ترجمان کی ایک صوتی پیغام کے ذریعے سامنے آئی ہے، جو ہفتے کے روز انٹرنیٹ پر جاری کیا گیا اور دو برس بعد اس کا پہلا پیغام بتایا جا رہا ہے۔ داعش کے ترجمان ابو حذیفہ الانصاری نے کہا کہ نیا شامی نظام، اپنی سیکولر حکومت اور قومی فوج کے ساتھ، کافر اور مرتد ہے۔ ایمان کے بعد اس سے بڑا کوئی فرض نہیں کہ ان کے خلاف جنگ کی جائے تاکہ شام کو ان کے قبضے سے آزاد کرایا جا سکے… شام کے سپاہیوں پر لازم ہے کہ وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ اس نظام کے خلاف لڑیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب احمد الشرع، جو پہلے ابو محمد الجولانی کے نام سے جانے جاتے تھے، دسمبر 2024 میں بشار اسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اقتدار میں آئے اور جنوری 2025 سے خود کو عبوری دور کا صدر قرار دے رہے ہیں۔ اسد کی برطرفی کے بعد الجولانی نے اپنے جہادی ماضی سے فاصلہ اختیار کیا اور اب ان کی حکومت امریکہ کی قیادت میں قائم داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد کا حصہ بتائی جاتی ہے۔
اس کے باوجود، ماضی میں الجولانی نے عراق میں قائم داعش کی شامی شاخ کے قیام کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کیا تھا اور جبهة النصرہ نامی گروہ کی تشکیل کے ذمہ دار رہے، جو دراصل داعش کی شامی شاخ تھا۔ بعد ازاں انہوں نے دہشت گرد تنظیم تحریر الشام کی بنیاد رکھی اور اس کی قیادت سنبھالی۔
گزشتہ جنوری میں شامی افواج نے اُن علاقوں میں پیش قدمی کی جو پہلے کردوں کے زیرِ کنٹرول تھے، جس سے اُن داعش قیدیوں کے مستقبل پر سوالات اٹھے جو نیروهای دموکراتیک سوریه (قسد) کے زیرِ انتظام مراکز میں قید تھے۔ فروری میں واشنگٹن نے داعش سے وابستگی کے شبہے میں 5,700 سے زائد قیدیوں کو شام سے عراق منتقل کیا۔ اسی دوران الہول کیمپ، جہاں پہلے داعش کے اہلِ خانہ مقیم تھے، تقریباً خالی کر دیا گیا؛ بعض افراد نے علاقہ چھوڑ دیا جبکہ دیگر کو حکام نے حلب کے ایک کیمپ میں منتقل کر دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے ترجمان حکومت کے داعش کے کے خلاف نے اپنے
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔