منی پور میں نئی تقرری پر ہنگامہ، کیا کشیدگی مزید بڑھے گی؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
بھارتی ریاست منی پور میں میتی ہندو اور کوکی زو قبائل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم انتظامی تقرری سامنے آئی ہے جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل دیا جا رہا ہے۔
بھارتی اخبار دی اکنامک ٹائمز کے مطابق وزیرِ اعظم مودی کی حکومت نے سابق فوجی افسر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ایل نشی کانتا سنگھ کو منی پور کے وزیرِ اعلیٰ کا مشیر مقرر کر دیا ہے۔
یہ تقرری ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ریاست 2023 میں “قبائلی یکجہتی مارچ” کے بعد سے شدید نسلی کشیدگی کا سامنا کر رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق منی پور میں اب تک ہونے والے نسلی فسادات میں 260 سے زائد افراد ہلاک، 1500 سے زیادہ زخمی جبکہ 60 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ریاست میں حالات معمول پر لانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد تعینات ہے۔
کچھ مبصرین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ایسی تقرری مزید تنازع کا باعث بن سکتی ہے، خصوصاً جب ریاست پہلے ہی شدید سماجی تقسیم کا شکار ہے۔
ان کے مطابق حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو تمام فریقوں کے اعتماد کو بحال کریں اور مفاہمت کی فضا قائم کریں۔
دوسری جانب حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ تجربہ کار افسران کی شمولیت کا مقصد ریاست میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا اور انتظامی امور کو مؤثر بنانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: منی پور
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔