Express News:
2026-07-23@23:29:44 GMT

منی پور میں نئی تقرری پر ہنگامہ، کیا کشیدگی مزید بڑھے گی؟

اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT

بھارتی ریاست منی پور میں میتی ہندو اور کوکی زو قبائل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم انتظامی تقرری سامنے آئی ہے جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل دیا جا رہا ہے۔

بھارتی اخبار دی اکنامک ٹائمز کے مطابق وزیرِ اعظم مودی کی حکومت نے سابق فوجی افسر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ایل نشی کانتا سنگھ کو منی پور کے وزیرِ اعلیٰ کا مشیر مقرر کر دیا ہے۔

یہ تقرری ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ریاست 2023 میں “قبائلی یکجہتی مارچ” کے بعد سے شدید نسلی کشیدگی کا سامنا کر رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق منی پور میں اب تک ہونے والے نسلی فسادات میں 260 سے زائد افراد ہلاک، 1500 سے زیادہ زخمی جبکہ 60 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ریاست میں حالات معمول پر لانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد تعینات ہے۔

کچھ مبصرین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ایسی تقرری مزید تنازع کا باعث بن سکتی ہے، خصوصاً جب ریاست پہلے ہی شدید سماجی تقسیم کا شکار ہے۔

ان کے مطابق حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو تمام فریقوں کے اعتماد کو بحال کریں اور مفاہمت کی فضا قائم کریں۔

دوسری جانب حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ تجربہ کار افسران کی شمولیت کا مقصد ریاست میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا اور انتظامی امور کو مؤثر بنانا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: منی پور

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان