لیاقت بلوچ کی علامہ راجہ ناصر سمیت اپوزیشن قائدین سے ملاقاتیں، تحریک پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
لیاقت بلوچ کی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر اتفاق کیا گیا کہ آئین کی بالادستی عدلیہ کی آزادی عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے سے ہی سیاسی بحران حل ہونگے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کی اپوزیشن قائدین سے اہم ملاقاتیں ہوئیں، جن میں ملکی سیاسی صورتحال اور اپوزیشن کی تحریک پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسلام آباد میں لیاقت بلوچ کی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر اتفاق کیا گیا کہ آئین کی بالادستی عدلیہ کی آزادی عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے سے ہی سیاسی بحران حل ہونگے۔ لیاقت بلوچ نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے قومی سطح پر آل پارٹیز کانفرنس بلائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسائل طاقت اور گولی سے حل کرنے کا طریقہ ناکام ہو چکا ہے، صوبے کے عوام حکمرانوں کے رویہ اور کرپشن کے باعث ناراض ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام ملک میں رائج فرسودہ نظام سے نجات چاہتے ہیں۔ لاہور میں لیاقت بلوچ نے تحریک انصاف کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالٰہی سے بھی ملاقات کی، جس میں مجموعی سیاسی حالات اور اپوزیشن کے لائحہ عمل پر گفتگو کی گئی۔ لیاقت بلوچ نے حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ناقص حکمت عملی کے باعث زراعت، صنعت اور تجارت کے شعبے تباہی سے دوچار ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں اپوزیشن لیڈر لیاقت بلوچ کی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔