Nawaiwaqt:
2026-07-23@23:43:13 GMT

ڈاکٹر نبیہا خان نے اپنے شوہر اور سسرال کی حقیقت بے نقاب کردی

اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT

ڈاکٹر نبیہا خان نے اپنے شوہر اور سسرال کی حقیقت بے نقاب کردی

مشہور کلینیکل سائیکالوجسٹ، سابق نیوز اینکر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ڈاکٹر نبیہا علی خان نے اپنی ازدواجی زندگی سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں شرکت کے دوران اپنے رشتے میں پیدا ہونے والی کشیدگی پر کھل کر گفتگو کی۔ڈاکٹر نبیہا علی خان نے گزشتہ سال حارث کھوکھر سے منگنی اور شادی کا اعلان کر کے مداحوں کو حیران کر دیا تھا۔ تاہم شادی کے چند ماہ بعد ہی دونوں کے درمیان اختلافات کی خبریں گردش کرنے لگیں۔ اب انہوں نے خود اعتراف کیا ہے کہ ان کی شادی اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے۔انہوں نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ رشتہ ابھی ختم نہیں ہوا، مگر حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ بات طلاق تک جا سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کا گھر ٹوٹا تو اس کے ذمہ دار ان کے شوہر کے گھر والے ہوں گے۔ ان کے مطابق حارث کھوکھر اپنے والدین کی باتوں میں آ کر ان کے ساتھ ناروا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ڈاکٹر نبیہا نے سوال اٹھایا کہ اگر گھر والوں کو پہلے سے کوئی اور رشتہ منظور تھا تو انہیں اس شادی میں کیوں شامل کیا گیا۔ان کا مؤقف تھا کہ شوہر کا فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی کا ساتھ دے اور اس کی ڈھال بنے، نہ کہ ہر معاملے میں والدین کی جانب داری کرتے ہوئے بیوی کی اہمیت کم کر دے اور اسے گھر سے نکال دے۔انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے اپنے شوہر کی محبت میں اپنی ساس کی دن رات خدمت کی، گھر کے تمام کام انجام دیے اور اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات بھی کم کر دیں تاکہ شادی شدہ زندگی کو وقت دے سکیں۔ان کے مطابق وہ اپنا گھر بچانا چاہتی تھیں، مگر اس کے باوجود حالات بہتر نہ ہو سکے۔ڈاکٹر نبیہا علی خان کا کہنا تھا کہ اگر یہی طرزِ عمل برقرار رہا تو مستقبل میں ان کے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے والی کسی بھی خاتون کو ایسی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ رشتوں میں ہر فرد کا ایک الگ مقام ہوتا ہے اور بیوی کی عزت اور اہمیت کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔پروگرام کے دوران میزبان فضا علی بھی جذباتی ہو گئیں اور انہوں نے ڈاکٹر نبیہا کو تسلی دی۔فضا علی نے شوہر کے مبینہ رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ناظرین سے اپیل کی کہ کسی بھی خاتون کا مذاق نہ بنایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی عورت خوشی سے اپنا گھر نہیں توڑتی، بلکہ حالات اسے اس مقام تک لے آتے ہیں جہاں ایسے فیصلے ناگزیر ہو جاتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ڈاکٹر نبیہا انہوں نے تھا کہ

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا