یاسین ملک کے خلاف جھوٹے مقدمے کا مقصد مودی حکومت کی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرانا ہے، قانونی ماہرین
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت نے 36سال بعد ایک اور عینی شاہد تیار کیا ہے جس نے یاسین ملک اور محمد رفیق پہلو کو 1990ء میں سرینگر میں بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں پر حملے کے دوران فائرنگ کرنے والے کے طور پر شناخت کیا۔ اسلام ٹائمز۔ مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کشمیریوں کو سزا دینے کے لیے جھوٹے بیانیے گھڑ رہی ہے اور حقائق کو مسخ کر رہی ہے جس کا ثبوت جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک کو نشانہ بنانے کی تازہ ترین کوشش ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت نے 36سال بعد ایک اور عینی شاہد تیار کیا ہے جس نے یاسین ملک اور محمد رفیق پہلو کو 1990ء میں سرینگر میں بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں پر حملے کے دوران فائرنگ کرنے والے کے طور پر شناخت کیا۔ مذکورہ شخص نے جموں کی ایک ٹاڈا عدالت کے سامنے گواہی دی جس میں یاسین ملک اور رفیق پہلو کو 25 جنوری 1990ء کے حملے سے جوڑا گیا جس میں بھارتی فضائیہ کے چار اہلکار ہلاک اور 40 دیگر زخمی ہوئے تھے۔ اس سے قبل اسی کیس میں 31 جنوری کو یاسین ملک کے ساتھی شوکت بخشی کو ایک شوٹر کے طور پر شناخت کیا گیا تھا۔ قانونی ماہرین نے ان نئے گواہوں کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے انہیں من گھڑت قرار دیا اور طریقہ کار کی بے ضابطگیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ پورا منصوبہ یاسین ملک کو پھانسی پر چڑھانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ مودی حکومت کی کھوئی ہوئی سیاسی ساکھ کو بحال کیا جائے اور جموں و کشمیر کے لئے حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے والی آوازوں کو دبایا جائے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بھارتی حکام کی طرف سے کشمیری رہنماوں کو مجرم قرار دینے اور جھوٹے مقدمات اور مسخ شدہ بیانیے کے ذریعے کشمیریوں کو ڈرانے دھمکانے کی ایک بڑی سازش کا حصہ ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا نوٹس لے اور کشمیریوں پر بھارت کے منظم مظالم کو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یاسین ملک
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔