دبئی میں بچے کو بائیک چلانا مہنگا پڑ گیا، 38 لاکھ روپے جرمانہ لگ گیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں کم عمر بچوں کی جانب سے مین روڈ پر کواڈ بائیک چلانے پر سخت کارروائی کی گئی ہے۔
دبئی پولیس نے 50 ہزار درہم (تقریباً 38 لاکھ پاکستانی روپے) جرمانہ عائد کرتے ہوئے بائیک ضبط کرلی۔
خلیجی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹریفک پولیس نے پیٹرولنگ کے دوران دو بچوں کو مرکزی شاہراہ پر چار پہیوں والی کواڈ بائیک چلاتے دیکھا، جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں روکا گیا اور والدین کو موقع پر طلب کیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بچوں کو مصروف سڑکوں پر گاڑی یا بائیک چلانے کی اجازت دینا نہ صرف ان کی جان بلکہ دیگر شہریوں کی حفاظت کے لیے بھی شدید خطرہ بن سکتا ہے۔ اسی لیے قانون کے مطابق 50 ہزار درہم جرمانہ عائد کیا گیا۔
#أخبار| شرطة دبي تعزز السلامة بإيقاف طفل يقود دراجة على الطريق العام
التفاصيل : https://t.
دبئی پولیس نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ وہ کم عمر بچوں کو سڑکوں پر کسی بھی قسم کی گاڑی چلانے کی اجازت نہ دیں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔