دبئی میں بچے کو بائیک چلانا مہنگا پڑ گیا، 38 لاکھ روپے جرمانہ لگ گیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں کم عمر بچوں کی جانب سے مین روڈ پر کواڈ بائیک چلانے پر سخت کارروائی کی گئی ہے۔
دبئی پولیس نے 50 ہزار درہم (تقریباً 38 لاکھ پاکستانی روپے) جرمانہ عائد کرتے ہوئے بائیک ضبط کرلی۔
خلیجی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹریفک پولیس نے پیٹرولنگ کے دوران دو بچوں کو مرکزی شاہراہ پر چار پہیوں والی کواڈ بائیک چلاتے دیکھا، جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں روکا گیا اور والدین کو موقع پر طلب کیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بچوں کو مصروف سڑکوں پر گاڑی یا بائیک چلانے کی اجازت دینا نہ صرف ان کی جان بلکہ دیگر شہریوں کی حفاظت کے لیے بھی شدید خطرہ بن سکتا ہے۔ اسی لیے قانون کے مطابق 50 ہزار درہم جرمانہ عائد کیا گیا۔
#أخبار| شرطة دبي تعزز السلامة بإيقاف طفل يقود دراجة على الطريق العام
التفاصيل : https://t.
دبئی پولیس نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ وہ کم عمر بچوں کو سڑکوں پر کسی بھی قسم کی گاڑی چلانے کی اجازت نہ دیں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔