خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کی مختلف ضلعی حدود میں دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر پلیسر سونے کی کان کنی پر پابندی آئندہ 2 ماہ کے لیے بڑھا دی ہے۔

ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ محکمے، ضلعی انتظامیہ اور دیگر ایجنسیوں سے موصولہ قابل بھروسہ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر غیر قانونی پلیسر سونا نکالنے کی کوششوں کے قوی امکانات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں، خیبر پختونخوا مزید تجربہ گاہ نہیں بنے گا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ معدنیات کی ترقی کے سیکریٹری نے سوات، نوشہرہ، کوہاٹ اور کرک اور ان کے ملحقہ علاقوں میں دسمبر میں عائد کردہ پابندی کو عوامی مفاد میں بڑھانے کی درخواست کی تھی۔

ڈیپارٹمنٹ نے خبردار کیا کہ اگر ایسی غیر مجاز اور غیر منظم کوششوں کو جاری رہنے دیا گیا تو اس سے دریا کے کناروں کی شدید خرابی، پانی کے وسائل کی آلودگی، مقامی ماحول اور منظرنامے کی تباہی اور عوامی صحت و سلامتی کو براہِ راست خطرہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اس کے علاوہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ان کوششوں سے قانون و انتظام کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے، جیسے مقامی گروہوں کے درمیان دشمنیاں، مواد کی غیر قانونی نقل و حمل، کان کنی کے آلات کے لیے ایندھن کی سمگلنگ اور امن و امان کے لیے دیگر خطرناک سرگرمیاں۔

مزید پڑھیں: جاپان کا خیبر پختونخوا میں تباہی سے بچاؤ کے لیے تعلیمی منصوبہ، 427 ملین ین گرانٹ کا معاہدہ

ڈیپارٹمنٹ نے یہ بھی کہا کہ غیر قانونی کان کنی میں ملوث بعض عناصر منظم انداز میں کام کرتے ہیں، ان کے پاس قابلِ ذکر مالی وسائل ہیں اور وہ انتظامی و پولیس افسران کی کارروائیوں کی مزاحمت کر سکتے ہیں، جس سے عوام اور اہلکاروں کی حفاظت کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

صوبائی کابینہ نے معدنیات کے محکمے کو ہدایت دی ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی مدد سے مربوط کارروائی کرے اور جہاں ضروری ہو اضافی فورسز تعینات کرے، تاکہ امن و امان کے لیے سیکشن 144 نافذ کیا جا سکے اور مقامی کمیونٹی کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا کا تعمیراتی خدمات پر ٹیکس قانونی قراردیدیا

ہوم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق سیکشن 144 کے تحت، دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر سوات، نوشہرہ، کوہاٹ اور کرک کے اضلاع اور ملحقہ متاثرہ علاقوں میں پلیسر سونا نکالنے اور کان کنی کی تمام سرگرمیوں پر پابندی آئندہ 60 دن کے لیے نافذ کی جاتی ہے۔

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس اس حکم کے نفاذ کے لیے تمام قانونی اقدامات کرنے کے مجاز ہیں، بشمول آلات، گاڑیوں، مشینری یا کسی بھی مواد کی ضبطی، اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو پاکستان کے فوجداری قانون کی دفعہ 188 کے تحت سزا دی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسمگلنگ آلات پلیسر گولڈ مائننگ خیبرپختونخوا دریائے سندھ سوات سونا کابل کان کنی کرک کوہاٹ مشینری معدنیات نوشہرہ ہوم ڈیپارٹمنٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسمگلنگ ا لات پلیسر گولڈ مائننگ خیبرپختونخوا دریائے سندھ سوات کابل کان کنی کوہاٹ معدنیات ہوم ڈیپارٹمنٹ کابل کے کناروں پر دریائے سندھ اور نوٹیفکیشن میں خیبر پختونخوا کہا گیا کان کنی کے لیے

پڑھیں:

بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔

ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان