پی ایس ایل: ٹیم سیالکوٹ کے 90 فیصد شیئرز نئی پارٹی کو فروخت کرنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
پاکستان سپر لیگ یعنی پی ایس ایل میں حالیہ رجسٹرڈ ٹیم سیالکوٹ اسٹالینز کے 90 فیصد حصص نئی پارٹی کو فروخت کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔
ٹیم کی مالک کمپنی OZ گروپ مالی مشکلات کا سامنا کر رہا تھا کیونکہ اس کے سابق شراکت داروں کے انخلا کے بعد اس کی ذمہ داریوں کو پورا کرنا مشکل ہو گیا تھا۔
دریں اثنا، وسیم اکرم نے تصدیق کی کہ وہ اب سیالکوٹ اسٹالینز کے صدر نہیں ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، گزشتہ ماہ پی سی بی نے 7ویں پی ایس ایل ٹیم کو کنگز مین کو 1.
???? OZ GROUP HAS LOST THE OWNERSHIP OF SIALKOT STALLIONZ
-new party agreed to buy 90% shares & will end the control of OZ Group. pic.twitter.com/2d3IO8g3wU
— Cricket Room (@cricketroom_) February 22, 2026
امریکی کمپنی نے اپنی ادائیگیاں بروقت کیں، لیکن آسٹریلوی گروپ کو مالی مشکلات کا سامنا رہا۔
ذرائع کے مطابق، بولی کے دوران جب قیمتیں بڑھتی گئیں، تو OZ گروپ کے شراکت دار فکرمند ہو گئے۔
بولی کے دوران وقفہ لیا گیا تاکہ دونوں شراکت داروں کو فون پر صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں:
بولی جیتنے کے بعد، دونوں شراکت دارایک سیالکوٹ اور دوسرا سوئٹزرلینڈ سے نے زیادہ قیمت کا حوالہ دیتے ہوئے دستبرداری اختیار کر لی۔
OZ گروپ نے بینک گارنٹی جمع کرائی، مگر ادائیگی میں دیر کی، جس سے معاہدے کے ختم ہونے کا خطرہ ٹل گیا۔
تاہم، فرنچائز فیس کی ادائیگی میں مشکلات جاری رہیں، اس صورتحال میں 75 فیصد حصص نئی پارٹی کو فروخت کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
مزید پڑھیں:
لاہور اور کراچی میں پریس کانفرنس بھی کی گئی، لیکن نئی پارٹی، محمد شاہد، کی طرف سے کوئی ادائیگی وصول نہیں ہوئی۔
جب فنڈز نہیں آئے تو نیا شراکت دار تلاش کرنے کا عمل شروع ہوا، ابتدائی طور پر جس پارٹی سے رابطہ کیا گیا تھا، اس نے بعد میں سنگین الزامات بھی عائد کیے۔
اس صورتحال میں پی سی بی کے پاس بینک گارنٹی کی رقم حاصل کر کے معاہدہ منسوخ کرنے کا آپشن تھا، لیکن درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی گئی۔
مزید پڑھیں:
ذرائع کے مطابق، بولی میں ناکام رہنے والی ایک پارٹی نے اب 90 فیصد سے زائد حصص خریدنے پر اتفاق کیا ہے، جس سے OZ گروپ کا انتظامی امور پر کنٹرول ختم ہو جائے گا۔
قواعد کے مطابق، 3 سال سے پہلے 100 فیصد حصص منتقل نہیں کیے جا سکتے۔ نئی پارٹی اس معاملے میں اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر شامل ہوگی۔
مزید ذرائع نے بتایا کہ جب پی سی بی نے اپنی تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ ایک مالک پہلے دیوالیہ ہو چکا تھا۔
تاہم، نئی پارٹی مالی طور پر مستحکم نظر آتی ہے اور اگلے ہفتے اعلان متوقع ہے۔
مزید پڑھیں:
دوسری جانب، جس کمپنی نے 75 فیصد حصص خریدنے کا دعویٰ کیا تھا، اس نے وسیم اکرم کو فرنچائز صدر مقرر کیا تھا، لیکن وہ اب اس عہدے پر نہیں ہیں۔
جب ان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا، صرف فون پر بات چیت ہوئی تھی۔
واضح رہے کہ پریس کانفرنس کے دوران وسیم اکرم کا ویڈیو بیان بھی دکھایا گیا۔
کچھ حلقوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں 10 فیصد شیئرزکی پیشکش بھی کی گئی تھی، لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
OZ گروپ اسٹالیننز بولی پی ایس ایل پی سی بی سیالکوٹ فرنچائز وسیم اکرم ویڈیو بیان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: OZ گروپ اسٹالیننز بولی پی ایس ایل پی سی بی سیالکوٹ فرنچائز وسیم اکرم ویڈیو بیان مزید پڑھیں پی ایس ایل نئی پارٹی وسیم اکرم پر اتفاق کے مطابق فیصد حصص پی سی بی OZ گروپ
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔