شناختی کارڈ سے محروم شہریوں کے لیے نادرا کا اہم اقدام
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
ویب ڈیسک : شناختی کارڈ سے محروم شہریوں کے لیے نادرا نے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے پیدائشی سرٹیفکیٹ کے بغیر شناختی کارڈ بنوانے کی مشروط سہولت فراہم کرنے کا اعلان کردیا۔
ترجمان نے کہا کہ پہلی بار رجسٹریشن کے لیے یہ سہولت 31 دسمبر 2026 تک مؤثر ہوگی، متبادل طریقوں سے درخواست گزار کی شناخت کی تصدیق کی جائے گی۔
اٹھارہ سال یا زائد عمر کی شادی شدہ خواتین کے پاس نکاح نامہ موجود ہونا لازم ہوگا، والد یا والدہ اور شوہر کا شناختی کارڈ بنا ہوا ہو اور ان کی بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی۔
زارا نور عباس نے سجل علی سے تعلقات کی حقیقت بیان کر دی
بیان کے مطابق غیرشادی شدہ خواتین پر شوہر سے متعلق شرائط لاگو نہیں ہوں گی، چوبیس سال یا زائد عمر مرد کے والد یا والدہ اور کسی ایک بہن بھائی کا شناختی کارڈ بنا ہونا ضروری ہوگا، والدین میں سے کسی ایک کی بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی۔
والدین اور شوہر دونوں فوت ہوں لیکن نادرا میں ریکارڈ موجود ہو تو بائیومیٹرک پر چھوٹ مل سکے گی، پہلی بار نان سمارٹ کارڈ کسی فیس کے بغیر جاری کیا جائے گا، شہری رجسٹریشن کے وقت درست معلومات یقینی بنائیں گے، ولدیت، تاریخ پیدائش اور جائے پیدائش میں تبدیلی نہیں ہو سکے گی۔
پنجاب حکومت کا گرڈ کمپنی لمیٹڈ میں اہم انتظامی عہدوں پر بھرتیوں کا فیصلہ
وفاقی وزیر داخلہ و انسدادِ منشیات محسن نقوی کی ہدایت پر نادرا نے سہولت کا طریقہ وضع کیا، نادرا اتھارٹی بورڈ نے منظوری دے دی، نادرا آرڈیننس اور شناختی کارڈ قواعد و ضوابط کے تحت سہولت دی گئی۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: شناختی کارڈ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔