افغانستان کی طرف سے دہشت گردی نہیں رکے گی تو جواب تو آئے گا: طاہر اشرفی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ افغانستان کی طرف سے دہشت گردی نہیں رکے گی تو جواب تو آئے گا۔
روزنامہ جنگ کے مطابق اس حوالے سے چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ گزشتہ رات پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانے پر حملہ کیا۔
حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ یہ وہ دہشتگرد تھے جنہوں نے مسجدوں اور عام شہریوں پر حملے کیے اور یہ وہ دہشت گرد ہیں جو بے گناہ اور معصوم مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے جس جگہ پاکستان نے حملہ کیا ہے وہ ایک مسجد تھی جبکہ پاکستان کی قیادت نے تو بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران بھی عبادت گاہوں پر حملہ کرنے سے منع کیا تھا۔
مری: بریک فیل ہونے سے گاڑی کو حادثہ، 3 خواتین جاں بحق
حافظ طاہر اشرفی نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ ایمان، جذبے اور تقویٰ والی فوج ہے، یہ اللّٰہ اور رسولﷺ کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔