پاکستان نے افغانستان کی سرحدی پٹی میں کالعدم تنظیم فتنہ الخوارج اور داعش خراسان سے منسلک عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی کارروائی کو دہشتگردی کے خلاف محدود اور متناسب اقدام قرار دیتے ہوئے شہری آبادی، مساجد یا مدارس کو نشانہ بنانے کے دعوؤں کو بے بنیاد اور گمراہ کن پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔

سرکاری مؤقف کے مطابق کارروائی مخصوص دہشتگرد کیمپوں اور ٹھکانوں کے خلاف کی گئی جو افغان سرزمین پر قائم مبینہ سرحدی پناہ گاہوں سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں ملوث تھے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی افغانستان میں جوابی کارروائی، سرحدی علاقوں میں 7 دہشتگرد کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا

بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی قسم کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور شہریوں، خواتین یا بچوں کو ٹارگٹ کرنے کا تاثر جھوٹا اور بدنیتی پر مبنی بیانیہ ہے جس کا مقصد دہشتگرد عناصر کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ تنظیم شہری آبادی میں چھپنے اور غیر جنگجو افراد کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی حکمت عملی اپناتی ہے، تاہم آپریشنل منصوبہ بندی میں ممکنہ جانی نقصان سے بچاؤ کے لیے اقدامات کیے گئے۔

مساجد یا مدارس کو نشانہ بنانے سے متعلق الزامات پر وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان مذہبی مقامات کے احترام کا پابند ہے اور حالیہ پاک بھارت کشیدگی (مئی 2025) کے دوران بھی اس کی مثالیں موجود ہیں۔

حکام کے مطابق بعض مقامات کو مذہبی شناخت دے کر درحقیقت انہیں تربیتی مراکز، پناہ گاہوں اور حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ اسلام کے نام پر کارروائیاں کرنے والے عناصر خود مذہبی تعلیمات کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

خودمختاری کی خلاف ورزی کے الزام پر پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی کے تناظر میں دفاعِ کے تحت کیا گیا اور اس کا ہدف افغان ریاست، عوام یا سیکیورٹی فورسز نہیں تھیں بلکہ وہ عناصر تھے جو پاکستان میں حملوں میں ملوث رہے۔

بیان میں کہا گیا کہ افغان حکام کے ساتھ متعدد بار ان مبینہ پناہ گاہوں کا معاملہ اٹھایا گیا تاہم مؤثر نتائج سامنے نہ آنے پر پاکستان اپنے شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں چھوڑ سکتا۔

حکام کے مطابق قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں دوحہ اور استنبول میں سفارتی سطح پر روابط بھی کیے گئے، تاہم دہشتگرد ڈھانچے کے خاتمے کے حوالے سے پیشرفت نہ ہو سکی۔

مؤقف میں کہا گیا کہ علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری کو سرحد پار دہشتگردی کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال نہ ہونے دیا جائے۔

پاکستان نے اس تاثر کو بھی مسترد کیاکہ وہ داخلی سیکیورٹی ناکامیوں کا بوجھ افغانستان پر ڈال رہا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں ملک بھر میں 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز کیے گئے، جن میں 2 ہزار 597 دہشتگرد ہلاک کیے گئے جبکہ سینکڑوں شہریوں اور اہلکاروں نے جانوں کی قربانیاں دیں۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ اعداد و شمار اندرونی سطح پر جاری وسیع کارروائیوں کی عکاسی کرتے ہیں اور سرحد پار عنصر ایک اضافی پہلو ہے، متبادل نہیں۔

افغانستان کی جانب سے ممکنہ ردعمل سے متعلق بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی کارروائی افغان ریاست کے خلاف نہیں تھی بلکہ دہشتگردوں کے خلاف تھی۔

مزید پڑھیں: بنوں: فورسز کے قافلے پر فتنہ الخوارج کا حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور سپاہی شہید

حکام کے مطابق کسی بھی ایسے اقدام کو جو دہشتگرد عناصر کو تحفظ یا سہولت فراہم کرے، دہشتگردی میں معاونت تصور کیا جائے گا اور پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے جامع دفاعی اقدامات کرے گا۔

بیان کے مطابق کشیدگی میں کمی کا راستہ واضح ہے کہ افغان حکام دہشتگرد کیمپوں کو ختم کریں، سہولت کاری کا نیٹ ورک توڑیں اور قابلِ تصدیق تعاون کو یقینی بنائیں تاکہ آئندہ کسی کارروائی کی ضرورت پیش نہ آئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان پاکستان دہشتگرد ٹھکانے دہشتگردی کارروائی وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان پاکستان دہشتگرد ٹھکانے دہشتگردی کارروائی وی نیوز میں کہا گیا کہ کے مطابق کو نشانہ کے خلاف حکام کے کیے گئے کے لیے

پڑھیں:

ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف

پاکستان کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے آسٹریلیا کے خلاف جاری ون ڈے سیریز میں استعمال ہونے والی اسپن فرینڈلی وکٹوں پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنہ 2027 ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے ٹیم کی حکمت عملی جامع تحقیق اور مختلف حالات کے جائزے پر مبنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ون ڈے ٹیم کی تشکیل پر مسلسل کام جاری، ورلڈ کپ کو ہدف بنایا لیا، مائیک ہیسن

پاکستان نے 3 میچوں کی سیریز کے پہلے ون ڈے میں کم اسکور والے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 0-1 کی برتری حاصل کر رکھی ہے تاہم بعض کرکٹ مبصرین نے سوال اٹھایا تھا کہ آیا سست اور اسپن بولنگ کے لیے سازگار وکٹیں ٹیم کو 2027 کے ورلڈ کپ کے لیے مؤثر تیاری فراہم کر سکیں گی یا نہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں مائیک ہیسن نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ جنوبی افریقا کی تمام وکٹیں تیز اور باؤنس والی ہوتی ہیں۔

’ورلڈ کپ 2027 کے لیے ٹیم کی تیاری: پاکستانی وکٹیں موزوں ہیں‘

انہوں نے لکھا کہ میں یہ باتیں سن رہا ہوں کہ پاکستان میں موجودہ وکٹیں جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے موزوں نہیں ہیں لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔

I've been hearing a bit of chatter about the pitches here in Pakistan not being the ideal preparation for the World Cup in South Africa. It’s actually a topic I talked about on the latest #PCB podcast.

Firstly the World Cup is jointly hosted in South Africa, Zimbabwe and…

— Mike Hesson (@CoachHesson) June 1, 2026

ہیسن نے یاد دلایا کہ سنہ 2027 کا آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ صرف جنوبی افریقا میں نہیں بلکہ زمبابوے اور نمیبیا میں بھی کھیلا جائے گا جہاں متعدد میدانوں پر اسپنرز کو نمایاں مدد ملتی ہے۔

مزید پڑھیے: ورلڈ کپ سے قبل پاور پلے اور مڈل اوورز میں بہتری ضروری ہے، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن

انہوں نے کہا کہ زمبابوے اور نمیبیا میں ایسے کئی وینیوز موجود ہیں جہاں اسپن ایک اہم عنصر ہوتا ہے اور پاکستان کو وہاں بھی میچز کھیلنے ہیں۔

پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے سال 2024 میں جنوبی افریقا کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارل میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں بھی اسپن بولنگ نے اہم کردار ادا کیا تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جنوبی افریقہ کی تمام وکٹوں کو یکساں طور پر تیز اور باؤنس والی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاثر کہ جنوبی افریقا کی ہر وکٹ رفتار اور باؤنس کے لیے مشہور ہے حقیقت پر مبنی نہیں۔

مزید پڑھیں: دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے کوچ نے شائقین کو یقین دلایا کہ ٹیم مینجمنٹ نے ورلڈ کپ کے حوالے سے تفصیلی تحقیق کی ہے اور آئندہ 18 ماہ کے دوران مختلف حالات اور وکٹوں پر کھیلنے کی بھرپور تیاری کی جائے گی تاکہ پاکستان عالمی ایونٹ کے لیے ہر ممکن طور پر تیار ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان کی اسپن فرینڈلی وکٹس پاکستان کی سلو وکٹس پاکستانی پچز پاکستانی وکٹس مائیک ہیسن ورلڈ کرکٹ کپ 2027

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے