ملک میں رجسٹرڈ آبادی کتنی ہے؟ نادرا نے سالانہ رپورٹ جاری کردی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
نادرا کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ رجسٹریشن کے وقت تمام معلومات کی درستی کو یقینی بنائیں، ان شرائط پر پورا اترنے والے اہل درخواست گزار مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے قریبی نادرا رجسٹریشن مرکز سے اپنا شناختی کارڈ بنوائیں۔ اسلام ٹائمز۔ نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے مطابق ملک کی 97 فیصد آبادی سرکاری طور پر رجسٹرڈ ہے۔قومی شناختی نظام میں تقریبا 98.
اس تجزیے میں آبادی کے رجحانات، مختلف اضلاع اور اصناف کے درمیان فرق کا جائزہ لے کر اس خلاء کے اسباب کی نشاندہی کی گئی اور اصلاحی اقدامات تجویز کیے گئے۔ ان سفارشات کی روشنی میں وفاقی وزیر برائے داخلہ و انسدادِ منشیات نے ایک منظم اور قانونی بنیاد پر مبنی سہولت متعارف کرانے کی ہدایت جاری کی، جس کی منظوری بعد ازاں نادرا اتھارٹی بورڈ نے بھی دے دی۔ اسی تناظر میں نادرا نے پہلی بار رجسٹریشن کے لیے ایک مخصوص سہولت متعارف کرائی ہے جو 31 دسمبر 2026ء تک موثر رہے گی۔ اس طریقہ کار کے تحت ایسے افراد جن کے پاس مقامی حکومت کا کمپیوٹرائزڈ پیدائش سرٹیفکیٹ دستیاب نہ ہو، انہیں تصدیق کی شرائط پوری ہونے پر کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ جاری کیا جا سکے گا۔ یہ سہولت نادرا آرڈیننس اور قومی شناختی کارڈ کے مروجہ قواعد و ضوابط کی ان شقوں کے تحت دی جا رہی ہے جو نادرا کو رجسٹریشن میں اضافے کی غرض سے مخصوص حالات میں متبادل تصدیقی طریقہ کار کے ذریعے قومی شناختی کارڈ جاری کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔
اس سہولت کے تحت شناختی کارڈ صرف ان افراد کو جاری کیا جائے گا جن کی شناخت نادرا کے موجودہ ریکارڈ کی بنیاد پر متعین کی جاسکے اور پہلے سے رجسٹرڈ خاندان کے قریبی افراد کی لازمی بائیومیٹرک تصدیق مکمل ہو جائے۔ اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کی شادی شدہ خاتون کے لیے مقامی حکومت کا مستند نکاح نامہ، والدین میں سے کسی ایک کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ، شوہر کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ، اور والدین میں سے کسی ایک اور شوہر کی بائیو میٹرک شناخت کی تصدیق لازمی ہوگی۔ اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کی غیر شادی شدہ خاتون کے لیے والدین میں سے کسی ایک کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ اور شناختی کارڈ کے حامل والد یا والدہ کی بائیو میٹرک شناخت کی تصدیق لازمی ہوگی۔ چوبیس سال سے زائد عمر کے مرد درخواست گزار کے لیے ضروری ہوگا کہ والدین میں سے کسی ایک کے پاس کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ موجود ہو اور کم از کم ایک بہن یا بھائی بھی رجسٹرڈ ہو، جبکہ والدین میں سے کسی ایک کی بائیو میٹرک شناخت کی تصدیق لازمی ہوگی۔
اگر کسی درخواست گذار کے والد اور والدہ دونوں یا شوہر وفات پا چکے ہوں لیکن ان کا ریکارڈ نادرا میں موجود ہو تو مجاز افسر ریکارڈ کی بنیاد پر جانچ کے بعد بائیو میٹرک کی تصدیق سے استثنی دے سکتا ہے۔ محدود مدت کی یہ سہولت تصدیق کے ان مراحل کی تکمیل سے مشروط ہوگی۔ مزید سہولت کے لیے اس طریق کار کے تحت نارمل کیٹیگری میں نان اسمارٹ شناختی کارڈ کسی فیس کے بغیر جاری کیا جائے گا۔ قومی شناختی نظام میں اندراج کے بعد ولدیت، تاریخِ پیدائش اور جائے پیدائش ناقابلِ تنسیخ اور ناقابلِ تبدیلی ہوں گے۔ نادرا کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ رجسٹریشن کے وقت تمام معلومات کی درستی کو یقینی بنائیں، ان شرائط پر پورا اترنے والے اہل درخواست گزار مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے قریبی نادرا رجسٹریشن مرکز سے اپنا شناختی کارڈ بنوائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ والدین میں سے کسی ایک کا کمپیوٹرائزڈ بائیو میٹرک مقامی حکومت رجسٹریشن کے کی تصدیق بنیاد پر جاری کی کے تحت کے لیے
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔