بھارت کا ایک اور لڑاکا طیارہ تیجس گرکر تباہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
نئی دہلی: بھارتی طیارے گرنے اور دنیا بھر میں جگ ہنسائی کا سلسلہ تاحال ختم نہیں ہوا، بھارتی فضائیہ کا ایک اور لڑاکا طیارہ تیجس معمول کی تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہوگیا، جس میں پائلٹ محفوظ رہا، بھارتی حکام نے حادثے کی تصدیق کی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق تربیتی مشق کے دوران تیجس طیارے کو اچانک تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا جس کے سبب وہ فضا میں بے قابو ہوگیا اور زمین پر گرگیا جس کے بعد طیارے میں آگ لگ گئی۔
بھارتی فضائیہ کے حکام نے کہا ہے کہ حادثے میں پائلٹ محفوظ رہا جس نے طیارہ گرنے سے قبل بحفاظت خود کو ’’ایجیکٹ‘‘کیا، واقعے کی تحقیقات اور حادثے کی اصل وجہ جاننے کے لیے کورٹ آف انکوائری قائم کر دی گئی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق تکنیکی خرابی کو حادثے کی ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے تاہم حکام نے زور دیا ہے کہ حتمی نتائج تفصیلی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی اخذ کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔