بھارتی لڑاکا طیارے اڑتے تابوت بن گئے، ایک اور تیجس تباہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
نئی دہلی: (ویب ڈیسک) بھارت کے لڑاکا طیارے اڑتے تابوت بن گئے، ایک اور تیجس لڑاکا طیارہ تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت ایک اور تیجس لڑاکا طیارے سے محروم ہوگیا،تیجس طیارہ تربیتی پرواز کے دوران ایئربیس میں گر کر تباہ ہوا، پائلٹ بروقت اجیکٹ کرنے کی وجہ سے محفوظ رہا۔
حادثے کے بعد بھارتی ایئرفورس نے تمام تیجس طیاروں کا دوبارہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا، انڈین ایئرفورس کے پاس 32 تیجس ایم کے ون طیارے موجود ہیں۔
بھارتی میڈیا کےمطابق دو سال کے دوران تیسرا تیجس طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے، پہلا تیجس طیارہ 2024 میں بھارتی ریاست راجستھان میں گرکر تباہ ہوا، دوسرا طیارہ گزشتہ سال دبئی ایئرشو میں زمین بوس ہوگیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔