چیف ایڈوائزر کا عہدہ چھوڑنے کے بعد پروفیسر محمد یونس کی ’یونس سینٹر‘ واپسی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کے سابق چیف ایڈوائزر اور نوبیل امن انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس نے عبوری حکومت کی ذمہ داریاں مکمل کرنے کے بعد اپنی سابقہ پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے اور اتوار کو ڈھاکا میں قائم یونُس سینٹر کا دورہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی وزیر احسن اقبال کی ڈھاکا میں بنگلہ دیشی چیف ایڈوائزر محمد یونس سے ملاقات، دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
تفصیلات کے مطابق نئی منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کرنے کے چار روز بعد پروفیسر یونس میرپور، ڈھاکا میں واقع گرامین ٹیلی کام بھون میں قائم یونُس سینٹر پہنچے جہاں ان کے سابق ساتھیوں نے ان کا استقبال کیا۔ یونُس سینٹر کے سرکاری فیس بک پیج پر جاری بیان کے مطابق انہوں نے 18 ماہ تک عبوری انتظامیہ کی قیادت کرنے کے بعد باقاعدہ طور پر اپنی سرگرمیاں دوبارہ سنبھال لی ہیں۔
রাষ্ট্রীয় দায়িত্ব শেষে ইউনুস সেন্টারে ফিরলেন ড.
— 24 Live Newspaper (@24livenewspaper) February 22, 2026
دورے کے دوران پروفیسر یونس نے گرامین بینک کی شراکت دار تنظیموں کے نمائندوں، سینٹر کے منیجنگ ڈائریکٹر اور مشیروں سے ملاقاتیں کیں۔ یونُس سینٹر ایک بین الاقوامی تھنک ٹینک اور تحقیقی ادارہ ہے جو سماجی کاروبار کے اس تصور کو فروغ دیتا ہے جس کے بانی اور داعی خود پروفیسر یونس ہیں۔
پروفیسر محمد یونس، جو گرامین بینک کے بانی منیجنگ ڈائریکٹر بھی رہے، کو 2006 میں غربت کے خاتمے میں خدمات پر گرامین بینک کے ساتھ مشترکہ طور پر نوبیل امن انعام دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:پروفیسر یونس کے روڈ میپ کی حمایت کرتے ہیں، نئے انتخابات کے بعد استحکام آئےگا، بنگلہ دیشی فوج
انہوں نے جولائی کی عوامی تحریک کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی تبدیلی کے دوران 8 اگست 2024 کو چیف ایڈوائزر کا حلف اٹھایا تھا۔ اس وقت وہ فرانس سے وطن واپس آئے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ قومی بحران کے دوران طلبہ رہنماؤں کی اپیل پر انہوں نے یہ ذمہ داری قبول کی۔
Yunus returns to think tank after 18 months as chief adviser amid speculations of Presidential role
Debdutta Chakraborty @debdutta_c reports #ThePrintForeignAffairs https://t.co/V8Xx94tNA2
— ThePrintIndia (@ThePrintIndia) February 22, 2026
اپنے دورِ اقتدار میں انہوں نے ادارہ جاتی اصلاحات اور عام انتخابات کی تیاری کو ترجیح دی۔ 12 فروری 2026 کو 13ویں پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے، جس کے بعد 17 فروری کو بی این پی نے حکومت تشکیل دی اور یوں عبوری انتظامیہ کا دور اختتام پذیر ہوا۔
چیف ایڈوائزر کے طور پر وہ اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جمونا میں مقیم تھے، جبکہ یونُس سینٹر کے مطابق وہ رواں ماہ کے آخر میں گلشن میں اپنی رہائش گاہ منتقل ہو جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش ڈاکٹر یونس ڈھاکہ یونس سینٹر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش ڈاکٹر یونس ڈھاکہ یونس سینٹر چیف ایڈوائزر پروفیسر یونس یون س سینٹر محمد یونس انہوں نے کے بعد
پڑھیں:
سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔
خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔
علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز
بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔