ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام اور اقتصادی پابندیوں کے معاملے پر اختلافات بدستور برقرار ہیں، تاہم دونوں ممالک نے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ پابندیوں میں نرمی کے طریقہ کار اور ٹائم لائن پر دونوں فریقوں کے مؤقف میں واضح فرق موجود ہے، لیکن مارچ کے اوائل میں مذاکرات کا نیا دور متوقع ہے، جس سے سفارتی پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات میں مثبت پیشرفت، معاہدے کے لیے رہنما اصولوں پر اتفاق

ایران اور امریکا نے رواں ماہ اپنے دیرینہ جوہری تنازع پر بات چیت کا عمل دوبارہ شروع کیا تھا۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تیاریوں اور ایران کی سخت بیانات نے خطے میں کشیدگی کو بڑھا دیا ہے اور ممکنہ تصادم کے خدشات کو تقویت دی ہے۔

ایرانی عہدیدار کے مطابق حالیہ مذاکرات سے ظاہر ہوا کہ پابندیوں کے خاتمے کے دائرہ کار اور طریقہ کار پر امریکی تجاویز ایران کے مطالبات سے ہم آہنگ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیشرفت کے لیے ایک ایسا روڈ میپ درکار ہے جو باہمی مفادات اور معقول ٹائم فریم پر مبنی ہو۔

‼️???????????????? Axios from a US official:
Ready for new talks in Geneva on Friday if we receive an Iranian nuclear deal proposal within 48 hours
Current efforts may be Iran's last chance from Trump before a wide US-Israeli attack.

pic.twitter.com/sHgPcJkyPG

— The threat of missiles and drones (@StatWatch25) February 22, 2026

تہران نے امریکا کے ’زیرو افزودگی‘ کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسے پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا حق تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی خواہش کی تردید کرتا ہے، جبکہ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران کے اندر افزودگی کا عمل ممکنہ طور پر ہتھیار سازی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے مطابق ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ تقریباً 440 کلوگرام یورینیم موجود ہے، جو ہتھیاروں کے درجے کی 90 فیصد افزودگی سے کچھ کم ہے۔ امریکا ایران سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہو جائے۔

ایرانی عہدیدار نے عندیہ دیا کہ تہران اپنے کچھ ذخیرے کو بیرون ملک منتقل کرنے، بلند ترین افزودگی کی سطح کم کرنے یا خطے میں مشترکہ افزودگی کنسورشیم کے قیام جیسے اقدامات پر غور کر سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے پرامن جوہری حق کو تسلیم کیا جائے۔ ان کے مطابق عبوری معاہدے تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کی تاریخ اب تک مقرر کیوں نہیں ہوسکی؟

ایران کا کہنا ہے کہ سفارتی حل دونوں ممالک کے لیے معاشی فوائد کا باعث بن سکتا ہے اور امریکا کو ایران کے تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع بھی دیے جا سکتے ہیں، تاہم تہران اپنے قدرتی وسائل پر کنٹرول کسی صورت نہیں چھوڑے گا۔ صورتحال تاحال نازک ہے، لیکن فریقین نے بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اور امریکا ایران کے کے لیے

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان