ایران اور امریکا میں پابندیوں کے خاتمے پر اختلاف برقرار، مارچ میں نئے مذاکرات کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام اور اقتصادی پابندیوں کے معاملے پر اختلافات بدستور برقرار ہیں، تاہم دونوں ممالک نے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ پابندیوں میں نرمی کے طریقہ کار اور ٹائم لائن پر دونوں فریقوں کے مؤقف میں واضح فرق موجود ہے، لیکن مارچ کے اوائل میں مذاکرات کا نیا دور متوقع ہے، جس سے سفارتی پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات میں مثبت پیشرفت، معاہدے کے لیے رہنما اصولوں پر اتفاق
ایران اور امریکا نے رواں ماہ اپنے دیرینہ جوہری تنازع پر بات چیت کا عمل دوبارہ شروع کیا تھا۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تیاریوں اور ایران کی سخت بیانات نے خطے میں کشیدگی کو بڑھا دیا ہے اور ممکنہ تصادم کے خدشات کو تقویت دی ہے۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق حالیہ مذاکرات سے ظاہر ہوا کہ پابندیوں کے خاتمے کے دائرہ کار اور طریقہ کار پر امریکی تجاویز ایران کے مطالبات سے ہم آہنگ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیشرفت کے لیے ایک ایسا روڈ میپ درکار ہے جو باہمی مفادات اور معقول ٹائم فریم پر مبنی ہو۔
‼️???????????????? Axios from a US official:
Ready for new talks in Geneva on Friday if we receive an Iranian nuclear deal proposal within 48 hours
Current efforts may be Iran's last chance from Trump before a wide US-Israeli attack.
— The threat of missiles and drones (@StatWatch25) February 22, 2026
تہران نے امریکا کے ’زیرو افزودگی‘ کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسے پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا حق تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی خواہش کی تردید کرتا ہے، جبکہ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران کے اندر افزودگی کا عمل ممکنہ طور پر ہتھیار سازی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے مطابق ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ تقریباً 440 کلوگرام یورینیم موجود ہے، جو ہتھیاروں کے درجے کی 90 فیصد افزودگی سے کچھ کم ہے۔ امریکا ایران سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہو جائے۔
ایرانی عہدیدار نے عندیہ دیا کہ تہران اپنے کچھ ذخیرے کو بیرون ملک منتقل کرنے، بلند ترین افزودگی کی سطح کم کرنے یا خطے میں مشترکہ افزودگی کنسورشیم کے قیام جیسے اقدامات پر غور کر سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے پرامن جوہری حق کو تسلیم کیا جائے۔ ان کے مطابق عبوری معاہدے تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کی تاریخ اب تک مقرر کیوں نہیں ہوسکی؟
ایران کا کہنا ہے کہ سفارتی حل دونوں ممالک کے لیے معاشی فوائد کا باعث بن سکتا ہے اور امریکا کو ایران کے تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع بھی دیے جا سکتے ہیں، تاہم تہران اپنے قدرتی وسائل پر کنٹرول کسی صورت نہیں چھوڑے گا۔ صورتحال تاحال نازک ہے، لیکن فریقین نے بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اور امریکا ایران کے کے لیے
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔