اپنے بیان میں وٹکوف نے کہا ہے کہ میں نے ٹرمپ کے حکم پر رضا پہلوی سے ملاقات کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کیساتھ جوہری مذاکرات کے لیے امریکی ایلچی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ایران کی مزاحمت سے حیران ہیں۔ تسنیم نیوز کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق، ایران امریکہ جوہری مذاکرات کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وائٹیکر نے امریکی مطالبات کے خلاف ایرانیوں کی مزاحمت پر امریکی صدر کی حیرت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ حیران ہیں کہ امریکی فوجی دباؤ کے باوجود ایران ہتھیار کیوں نہیں ڈال رہا۔ وائٹیکر نے فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ صدر نے آج صبح مجھ سے پوچھا، میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ وہ مایوس ہیں بلکہ یہ دیکھتے ہوئے کہ ان کے پاس متعدد آپشنز ہیں، یہ صورتحال ان کے لیے ایک سوال ہے، وہ یہ جاننے کے لیے متجسس ہیں کہ انھوں نے (ایران) اتنے دباؤ میں ہتھیار کیوں نہیں ڈالے۔

امریکی نمائندے نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری مذاکرات کے دوران ایران پر کافی دباؤ ڈالا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں یورینیم کی افزودگی کی سطح سویلین جوہری پروگرام کی ضروریات سے کہیں زیادہ ہے۔ وِٹکوف نے کہا کہ افزودگی امریکی سرخ لکیر ہے۔ وٹکوف کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی طرف سے سخت ترین معائنے کی زد میں ہے اور ایجنسی نے بارہا اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کا پروگرام جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا باعث نہیں بنا اور اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ہے۔   ایرانی حکام نے بارہا کہا ہے کہ ایران کے جوہری نظریے میں عسکریت پسندی نہیں ہے اور وہ ہمیشہ اس معاملے پر اعتماد پیدا کرنے کے لیے تیار رہے ہیں۔ وٹکوف نے کہا ہے کہ میں نے ٹرمپ کے حکم پر رضا پہلوی سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیکن ایران کا مسئلہ ٹرمپ کی پالیسیوں سے جڑا ہوا ہے اور اس کا پہلوی سے کوئی تعلق نہیں ہے، ٹرمپ ہر کسی کا نقطہ نظر سننا پسند کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہا ہے کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل