ٹرمپ امریکی زیاد خواہی کے مقابلے میں ایرانیوں کی مثالی مزاحمت سے حیران ہیں، وٹکوف
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
اپنے بیان میں وٹکوف نے کہا ہے کہ میں نے ٹرمپ کے حکم پر رضا پہلوی سے ملاقات کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کیساتھ جوہری مذاکرات کے لیے امریکی ایلچی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ایران کی مزاحمت سے حیران ہیں۔ تسنیم نیوز کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق، ایران امریکہ جوہری مذاکرات کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وائٹیکر نے امریکی مطالبات کے خلاف ایرانیوں کی مزاحمت پر امریکی صدر کی حیرت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ حیران ہیں کہ امریکی فوجی دباؤ کے باوجود ایران ہتھیار کیوں نہیں ڈال رہا۔ وائٹیکر نے فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ صدر نے آج صبح مجھ سے پوچھا، میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ وہ مایوس ہیں بلکہ یہ دیکھتے ہوئے کہ ان کے پاس متعدد آپشنز ہیں، یہ صورتحال ان کے لیے ایک سوال ہے، وہ یہ جاننے کے لیے متجسس ہیں کہ انھوں نے (ایران) اتنے دباؤ میں ہتھیار کیوں نہیں ڈالے۔
امریکی نمائندے نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری مذاکرات کے دوران ایران پر کافی دباؤ ڈالا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں یورینیم کی افزودگی کی سطح سویلین جوہری پروگرام کی ضروریات سے کہیں زیادہ ہے۔ وِٹکوف نے کہا کہ افزودگی امریکی سرخ لکیر ہے۔ وٹکوف کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی طرف سے سخت ترین معائنے کی زد میں ہے اور ایجنسی نے بارہا اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کا پروگرام جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا باعث نہیں بنا اور اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ایرانی حکام نے بارہا کہا ہے کہ ایران کے جوہری نظریے میں عسکریت پسندی نہیں ہے اور وہ ہمیشہ اس معاملے پر اعتماد پیدا کرنے کے لیے تیار رہے ہیں۔ وٹکوف نے کہا ہے کہ میں نے ٹرمپ کے حکم پر رضا پہلوی سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیکن ایران کا مسئلہ ٹرمپ کی پالیسیوں سے جڑا ہوا ہے اور اس کا پہلوی سے کوئی تعلق نہیں ہے، ٹرمپ ہر کسی کا نقطہ نظر سننا پسند کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہا ہے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
دنیائے کھیل کا سب سے بڑا اور مقبول ترین میلہ ’فیفا فٹبال ورلڈکپ 2026‘ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ 12 جون سے شروع ہونے جا رہا ہے۔
فٹبال کی تاریخ کا یہ اب تک کا سب سے انوکھا اور تاریخی ٹورنامنٹ ہوگا جس کی مشترکہ میزبانی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کر رہے ہیں۔
اس بار ورلڈکپ محض ایک کھیل نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ ثابت ہونے والا ہے، کیونکہ تاریخ میں پہلی بار 32 کے بجائے 48 ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:104 میچز، 48 ٹیمیں اور اربوں شائقین، فیفا ورلڈ کپ 2026 میں کیا کچھ نیا ہونے جارہا ہے؟
جہاں شائقین کا جوش و خروش عروج پر ہے، وہی کھیلوں کے معروف ڈیٹا ماڈل ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے 10 ہزار سیمولیشنز تیار کر کے فاتح ٹیم کے حوالے سے ایک سنسنی خیز پیشگوئی کر دی ہے۔
ٹورنامنٹ کا نیا فارمیٹ اور راؤنڈ آف 32 کا تاریخی آغازماضی کے برعکس اس بار ٹورنامنٹ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ٹورنامنٹ میں شریک 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ 4 ٹیموں پر مشتمل ہے۔
اس نئے فارمیٹ کے تحت ایونٹ کے دوران مجموعی طور پر ریکارڈ 104 میچز کھیلے جائیں گے۔ ہر گروپ سے پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں کوالیفائی کریں گی، جس سے ایونٹ کی تاریخ میں پہلی بار ’راؤنڈ آف 32′ کا سنسنی خیز آغاز ہوگا۔
زیادہ ٹیموں کی شمولیت کے باعث جہاں مقابلوں کا جوش بڑھے گا، وہیں کسی بھی ٹیم کے لیے فائنل تک کا سفر طویل اور تھکا دینے والا ہوگا۔
اوپٹا سپر کمپیوٹر کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟شائقین فٹبال کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ کوئی روایتی فزیکل کمپیوٹر نہیں ہے۔ یہ دراصل آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی ایک انتہائی ایڈوانس ماڈل ہے جو فٹبالرز اور ٹیموں کے موجودہ فارم، ماضی کے ریکارڈز اور ہزاروں دیگر ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کرتا ہے۔
یہ ماڈل ڈیٹا کی بنیاد پر پورے ٹورنامنٹ کو 10 ہزار سے زیادہ بار ڈیجیٹل طور پر سیمولیٹ کرتا ہے اور پھر پیشگوئی کرتا ہے کہ کس ٹیم کے ٹورنامنٹ جیتنے، فائنل میں پہنچنے یا کسی خاص میچ میں کامیابی حاصل کرنے کے کتنے فیصد امکانات موجود ہیں۔
’اسپین‘ فیورٹ، مگر ایک بڑا دھچکا بھیاوپٹا سپر کمپیوٹر کی 10 ہزار ڈیجیٹل سیمولیشنز کے بعد جو نتائج سامنے آئے ہیں، انہوں نے فٹبال کی دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ماڈل نے تمام تر غیریقینی صورتحال کے باوجود ’اسپین‘ کو ٹرافی جیتنے کے لیے واضح طور پر فیورٹ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا
سپر کمپیوٹر کے مطابق اسپین کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 16.1 فیصد ہے۔ تاہم دلچسپ اور پریشان کن بات یہ ہے کہ جہاں اسپین کو فاتح قرار دیا گیا ہے، وہیں ڈیٹا یہ بھی بتاتا ہے کہ اسپین وہ واحد بڑی ٹیم ہے جس کے کوارٹر فائنل تک نہ پہنچنے کا امکان 52.1 فیصد ہے۔ یعنی اگر اسپین ابتدائی ناک آؤٹ مرحلے عبور کرنے میں کامیاب رہا، تو اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا امکان 39 فیصد جبکہ فائنل میں پہنچنے کا امکان 25.6 فیصد ہوگا۔
دیگر بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکاناتسپر کمپیوٹر کے مطابق ٹرافی کی دوڑ میں اسپین تنہا نہیں ہے بلکہ دیگر روایتی حریف بھی اس کے تعاقب میں ہیں۔ سپر کمپیوٹر نے 4 بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکانات کو 10 فیصد سے زیادہ قرار دیا ہے۔ اس فہرست میں فرانس دوسرے نمبر پر ہے جس کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 13 فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح انگلینڈ 11.2 فیصد امکان کے ساتھ تیسرے اور لیونل میسی کی ارجنٹینا (دفاعی چیمپیئن) 10.4 فیصد امکان کے ساتھ چوتھے نمبر پر ممکنہ فاتح قرار دی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپین امریکا اوپٹا سپر کمپیوٹر برطانیہ ٹیم فیورٹ حیران کن پیش گوئی فیفا ورلڈ کپ لندن ورلڈ کپ۔