پاکستان رینجرز اورپولیس کی خفیہ کارروائی، اغواء برائے تاوان میں ملوث 2 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
احمدمنصور: پاکستان رینجرز (سندھ) اور اے وی سی سی پولیس نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کراچی کے علاقے پی آئی بی کالونی سے اغواء برائے تاوان میں ملوث 2 ملزمان سجاد عثمان عرف بابو اور حداد احمد کو گرفتار کر لیا۔
ترجمان رینجرز کے مطابق ملزمان کے قبضے سے ایک عدد جعلی نمبر پلیٹ لگی ویگو گاڑی اور موبائل فونز برآمد کر لیے گئے.
شہر میں 255 ٹریفک حادثات رپورٹ, 295 افراد زخمی
ترجمان رینجرز کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان نے انٹرنیشنل نمبر سے دھمکی آمیز کالز کے ذریعے لواحقین سے مغوی کی بازیابی کے عوض ایک کروڑ روپے تاوان طلب کیا جس کی ایف آئی آر تھانہ عزیز آباد میں درج ہے۔
واقع کی اطلاع ملنے پر پاکستان رینجرز (سندھ) اور اے وی سی سی پولیس نے تکنیکی ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے مشترکہ کارروائی میں گلشن اقبال کے علاقے سے مغوی تاجر کو باحفاظت بازیاب کروا لیا۔ اغواء کاروں نے فائرنگ کرتے ہوئے موقع سے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم تعاقب کے بعد دو ملزمان کو پی آئی بی کالونی سے گرفتار کر لیا گیا،ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
خبردار! اب مین ہول، اسٹریٹ لائٹس و دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچانے پر قید اور جرمانہ ہوگا
گرفتار ملزمان کو بمعہ ویگو گاڑی اور دیگر برآمدگی قانونی کارروائی کے لیئے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
ترجمان رینجرز نے عوام سے اپیل کی ہے کہ جرائم کے خاتمے کے لیے ایسے عناصر کے بارے میں اطلاع فوری طور پر قریبی رینجرز چیک پوسٹ، رینجرز ہیلپ لائن 1101 یا رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر 03479001111 پر کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے دیں،آپ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔
بابر اعظم ٹیم میں اپنی جگہ کے حقدار ہیں، ڈو پلیسس نے پاکستانی کوچ کی حمایت کر دی
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔