انزائیٹی، بے چینی اور اوورتھنکنگ سے نجات کیسے ممکن ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
اس رمضان ہم اس اہم سوال پر غور کریں گے کہ کہاں خود کو کنٹرول کرنا ہے اور کہاں کنٹرول چھوڑنا ہے؟ اسلام ہمیں تقویٰ سکھاتا ہے یعنی اپنی نیت اور اعمال کو حدود میں رکھنا، مگر مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب انسان ہر چیز کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ لوگوں کا رویہ، اپنا مستقبل اور ہر نتیجہ۔ یہی خاموش جدوجہد اکثر اینزائٹی کی شکل اختیار کر لیتی ہے، کیونکہ دماغ غیر یقینی مستقبل کو خطرہ سمجھ کر اوورتھنکنگ اور خوف پیدا کرتا ہے۔ یہاں اسلام ہمیں ایک خوبصورت حل دیتا ہے ’توکل‘۔ توکل کا مطلب کوشش چھوڑنا نہیں بلکہ اپنی پوری محنت کے بعد نتیجہ اللہ کے سپرد کرنا ہے۔ جب انسان دل سے کہتا ہے کہ ’یا اللہ میں نے اپنا بہترین کیا، اب جو ہوگا آپ کی مرضی‘، تو ذہن کو سکون ملتا ہے کیوںکہ معاملہ اللہ کے سپرد ہوجاتا ہے۔ چاہے امتحان ہو، کیریئر ہو یا زندگی کا کوئی بھی مرحلہ، توکل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر انسان کا وقت اور رزق مختلف ہے۔ اس رمضان ایک سادہ عمل اپنائیں کہ جو کچھ آپ کے اختیار میں ہے اس پر محنت کریں، جو نہیں اس کو اللہ کے حوالے کر دیں، کیونکہ سکون ہر چیز کو قابو کرنے میں نہیں بلکہ اللہ پر بھروسا کرنے میں ہے۔ مزید جانیے اس ویڈیو:
https://www.
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔