امریکی مصنوعات 14 دن تک قابل استعمال رہتی ہیں تاہم ایرانی ماہرین کی جانب سے تیار کردہ خلیاتی مصنوعات نے 14 دن کی یہ پابندی کو توڑ دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کے مرکز برائے ترقی جدید خلیاتی مصنوعات ٹیکنالوجیز (رویان انسٹی ٹیوٹ) کی ڈائریکٹر نے اعلان کیا ہے کہ ادارے نے “روئین گراف” نامی خلیاتی مصنوعات تیار کی ہے جس میں ٹشو کو نقصان پہنچائے بغیر منجمد (فریز) اور پگھلانے (ڈی فریز) کی صلاحیت موجود ہے۔ اور اس طرح یہ امریکی مصنوعات کی 14 دن کی مدت کی پابندی پر قابو پاتی ہے۔ مرکز کی ڈائریکٹر انسیا حاجی‌زاده نے خبر رساں ایجنسی تسنیم کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ یہ مصنوعات امریکی ماڈل “اپلی گراف” (Apligraf) کی بایوسِملر ہے، جسے کمپنی Organogenesis نے تیار کیا تھا۔ ان کے مطابق اصل ماڈل، جو Harvard University کی تحقیق پر مبنی ہے، زندہ خلیات پر مشتمل ہوتا ہے اور تیاری کے بعد صرف 14 دن تک قابلِ استعمال رہتا ہے، اس کے بعد یہ غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔حاجی‌ زاده نے مزید کہا کہ اس مدت کی پابندی نے کلینیکل ٹرائلز کی ہم آہنگی اور مصنوعات کو مریض تک پہنچانے کے عمل کو مشکل بنا دیا تھا۔

کیونکہ مریض کے انتخاب کے بعد مصنوعات کی فراہمی کے لیے صرف دو ہفتے باقی رہ جاتے تھے۔ ان کے بقول بڑے پیمانے پر پیداوار اور مکمل سپلائی چین کو اس مختصر مدت میں مکمل کرنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مصنوعات کو منجمد کرنے کے امکان پر مختلف آراء موجود تھیں۔ بعض کا کہنا تھا کہ اگر یہ ممکن ہوتا تو امریکی کمپنی پہلے ہی ایسا کر چکی ہوتی، جبکہ دیگر محققین نے اس بات پر زور دیا کہ ٹشو کے ڈھانچے کو تبدیل کیے بغیر منجمد اور پگھلانے کے طریقہ کار کو آزمانا ضروری ہے۔ مرکز کی ڈائریکٹر نے زور دے کر کہا کہ ادارے کی ایک محققہ نے کامیابی سے منجمد اور پگھلانے کا عمل اس طرح نافذ کیا کہ ٹشو کے ڈھانچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، اور تجربات سے ثابت ہوا کہ پگھلانے کے بعد ٹشو کی ساخت منجمد کرنے سے پہلے کی طرح صحت مند اور درست برقرار رہی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے بعد

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار