ایرانی ماہرین نے امریکہ سے بہتر خلیاتی مصنوعات تیار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
امریکی مصنوعات 14 دن تک قابل استعمال رہتی ہیں تاہم ایرانی ماہرین کی جانب سے تیار کردہ خلیاتی مصنوعات نے 14 دن کی یہ پابندی کو توڑ دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کے مرکز برائے ترقی جدید خلیاتی مصنوعات ٹیکنالوجیز (رویان انسٹی ٹیوٹ) کی ڈائریکٹر نے اعلان کیا ہے کہ ادارے نے “روئین گراف” نامی خلیاتی مصنوعات تیار کی ہے جس میں ٹشو کو نقصان پہنچائے بغیر منجمد (فریز) اور پگھلانے (ڈی فریز) کی صلاحیت موجود ہے۔ اور اس طرح یہ امریکی مصنوعات کی 14 دن کی مدت کی پابندی پر قابو پاتی ہے۔ مرکز کی ڈائریکٹر انسیا حاجیزاده نے خبر رساں ایجنسی تسنیم کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ یہ مصنوعات امریکی ماڈل “اپلی گراف” (Apligraf) کی بایوسِملر ہے، جسے کمپنی Organogenesis نے تیار کیا تھا۔ ان کے مطابق اصل ماڈل، جو Harvard University کی تحقیق پر مبنی ہے، زندہ خلیات پر مشتمل ہوتا ہے اور تیاری کے بعد صرف 14 دن تک قابلِ استعمال رہتا ہے، اس کے بعد یہ غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔حاجی زاده نے مزید کہا کہ اس مدت کی پابندی نے کلینیکل ٹرائلز کی ہم آہنگی اور مصنوعات کو مریض تک پہنچانے کے عمل کو مشکل بنا دیا تھا۔
کیونکہ مریض کے انتخاب کے بعد مصنوعات کی فراہمی کے لیے صرف دو ہفتے باقی رہ جاتے تھے۔ ان کے بقول بڑے پیمانے پر پیداوار اور مکمل سپلائی چین کو اس مختصر مدت میں مکمل کرنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مصنوعات کو منجمد کرنے کے امکان پر مختلف آراء موجود تھیں۔ بعض کا کہنا تھا کہ اگر یہ ممکن ہوتا تو امریکی کمپنی پہلے ہی ایسا کر چکی ہوتی، جبکہ دیگر محققین نے اس بات پر زور دیا کہ ٹشو کے ڈھانچے کو تبدیل کیے بغیر منجمد اور پگھلانے کے طریقہ کار کو آزمانا ضروری ہے۔ مرکز کی ڈائریکٹر نے زور دے کر کہا کہ ادارے کی ایک محققہ نے کامیابی سے منجمد اور پگھلانے کا عمل اس طرح نافذ کیا کہ ٹشو کے ڈھانچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، اور تجربات سے ثابت ہوا کہ پگھلانے کے بعد ٹشو کی ساخت منجمد کرنے سے پہلے کی طرح صحت مند اور درست برقرار رہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔