پاکستان سمیت 14 ممالک کی اسرائیل میں امریکی سفیربیان کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
اسلام آباد: ( مانیٹرنیگ ڈیسک )پاکستان سمیت 14 اسلامی اور عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے حالیہ بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ایک مشترکہ اعلامیے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان، عرب جمہوریہ مصر، ہاشمی مملکت اردن، متحدہ عرب امارات، جمہوریہ انڈونیشیا، جمہوریہ ترکیہ، مملکت سعودی عرب، ریاست قطر، ریاست کویت، سلطنت عمان، مملکت بحرین، لبنانی جمہوریہ، شامی عرب جمہوریہ اور ریاست فلسطین کے وزرائے خارجہ کے علاوہ تنظیمِ تعاونِ اسلامی ، عرب لیگ اور خلیجی تعاون کونسل نے بھی دستخط کیے۔
امریکی سفیر نے کہا تھا کہ اسرائیل کے لیے عرب ریاستوں سے تعلق رکھنے والے علاقوں، بشمول مقبوضہ مغربی کنارے پر کنٹرول قابلِ قبول ہو سکتا ہے، اسلامی ممالک کے اعلامیہ میں امریکی سفیر کے بیان کو خطرناک اور اشتعال انگیز قرار دیا گیا ہے۔
وزرائے خارجہ نے اس مؤقف کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ وژن اور غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے سے بھی متصادم ہیں، جو کشیدگی کم کرنے اور ایک ایسی سیاسی راہ ہموار کرنے پر مبنی ہے جس سے فلسطینی عوام کو اپنی آزاد ریاست حاصل ہو سکے۔
وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ ٹرمپ کا جامع منصوبہ رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ پر مبنی ہے، جبکہ دوسروں کی سرزمین پر کنٹرول کو جائز قرار دینے والے امریکی سفیر کے بیانات امن کے بجائے اشتعال انگیزی کو فروغ دیتے ہیں۔
مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں یا کسی بھی دیگر مقبوضہ عرب سرزمین پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں، وزرائے خارجہ نے مغربی کنارے کے الحاق یا اسے غزہ کی پٹی سے الگ کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کیا اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی توسیع کی شدید مخالفت کا اعادہ کیا۔
اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں اور غیر قانونی اقدامات کا تسلسل خطے میں تشدد اور تصادم کو مزید ہوا دے گا اور امن کی امیدوں کو نقصان پہنچائے گا، ایسے اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت اور 4 جون 1967ء کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تمام عرب علاقوں سے قبضے کے خاتمے پر زور دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امریکی سفیر
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔