ایم کیو ایم نے سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد کو آئین سے متصادم قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
ایم کیو ایم نے سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد کو آئین سے متصادم قرار دیدیا WhatsAppFacebookTwitter 0 22 February, 2026 سب نیوز
کراچی (سب نیوز)متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے سندھ اسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قرارداد منظور کرکے آئین کو چیلنج کیا گیا، کیا کوئی صوبہ آئین کے خلاف قرارداد منظور کر سکتا ہے؟۔
کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز بہادرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز سندھ اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد کسی خوف کے سائے میں منظور کی گئی اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ایک صوبہ خود کو پاکستان کے آئین سے بالاتر سمجھ رہا ہو۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں کے حوالے سے اب فیصلہ کن مرحلہ آ چکا ہے۔ ہم امن سے رہنے والے لوگ ہیں، دھمکیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، مسائل کا حل صرف مکالمہ ہے۔خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ دھرتی ماں پاکستان ہے اور صوبے اس کا حصہ ہیں، ہمارے ہوتے ہوئے سندھودیش کا خواب کبھی شرمند تعبیر نہیں ہوگا۔انہوں نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کی سیاست کا آغاز ادھر ہم، ادھر تم کے نعرے سے ہوا اور حالیہ قرارداد بھی پاکستان کے مفاد کے خلاف ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کوئی صوبہ آئین پاکستان سے متصادم قرارداد منظور کر سکتا ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ آئین کی پاسداری سب پر لازم ہے اور آئین ہی پرامن جدوجہد اور احتجاج کی اجازت دیتا ہے۔چیئرمین ایم کیو ایم نے مزید کہا کہ سندھ ملک کا سب سے زیادہ کثیراللسانی صوبہ ہے، شہری علاقوں کے ساتھ دہائیوں سے ناانصافی ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق مردم شماری میں کراچی کی آبادی کم ظاہر کی گئی اور وسائل کی تقسیم بھی غیر منصفانہ ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ وفاق سے سندھ کو ملنے والے خطیر فنڈز میں کراچی کا جائز حصہ نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین پر مکمل عملدرآمد ہی مسائل کا واحد حل ہے، بصورت دیگر آئینی و قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔خالد مقبول صدیقی نے زور دیا کہ ایم کیو ایم کا ہر اقدام پاکستان کے مفاد میں ہوگا اور پارٹی ملکی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریگی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارتی لڑاکا طیارے اڑتے تابوت بن گئے، ایک اور تیجس گر کر تباہ بھارتی لڑاکا طیارے اڑتے تابوت بن گئے، ایک اور تیجس گر کر تباہ افغانستان پاکستان کے تحفظات کا ازالہ کرنے سے انکاری ہے، اسپیکر ایاز صادق اب دہشتگردوں کیخلاف بلارعایت کارروائیاں کرینگے،پاک فوج کا دوٹوک اعلان بنوں میں سی ٹی ڈی کی تفتیشی ٹیم پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام ، دو دہشتگرد ہلاک ڈپٹی کمشنر،ڈی جی ایکسائز کی ہدایت پر موٹر بائکس پر ایم ٹیگ کی تنصیب کا عمل جاری محمد عارف نے کیلیفورنیا کے گورنر کیلئے باضابطہ امیدوار کی حیثیت سے حلف اٹھا لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم کے خلاف
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔