اسکرین گریب/ جیو نیوز یوٹیوب 

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ کل سندھ اسمبلی میں آئین کے خلاف قرار داد پیش کی گئی، پیپلز پارٹی نے یہ قرارداد کسی خوف کے سائے میں منظور کی ہے، ایک صوبہ ایسا کرتا ہے جیسے وہ پاکستان کے آئین سے بالاتر ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کا حل مکالمہ ہوتا ہے، ہم امن سے رہنے کی تمنا رکھنے والے لوگ ہیں، ایک اہم موڑ پر ہم داخل ہو گئے ہیں، ہم نے بھی اب فیصلہ کرنا ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایک اسمبلی میں پاکستان کے آئین کے خلاف قرارداد منظور ہوئی، سندھ کے شہری علاقوں میں عوام کی جانب سے تمام مکاتب فکر سے سوال ہے؟ کیا کوئی بھی پاکستان کے آئین کے خلاف کوئی قرارداد منظور کرسکتا ہے، جو سب ٹیکس دے اس کو کوئی اختیار نہیں؟

خالد مقبول لاپتہ افراد کے خاندانوں کیلئے 5 ارب گرانٹ منظوری پر حکومت کے شکر گزار

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ سیاسی کارکن ایم کیو ایم کے لاپتہ ہیں، ایم کیو ایم کا وفد جلد وزیراعظم سے ملاقات کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان سے محبت کرنے والی جماعت ہے، دھرتی ماں پاکستان ہے، صوبے اس کے حصے ہیں۔

چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ 1947 سے شروع ہوتی ہے، ہمارے ہوتے ہوئے سندھو دیش کا خواب خواب ہی رہے گا، ہمارے ہوتے ہوئے سندھو دیش نہیں بن سکتا۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ یہ کیسا انصاف ہے کہ 170 سیٹیں لینے والا جیل میں اور 80 سیٹ لینے والا حکومت میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت نے سندھ پر قبضہ کیا ہوا ہے، جعلی مردم شماری کے ذریعے پیپلز پارٹی قابض ہے، کسی صوبے میں لسانیت کی بنیاد پر کیا تقسیم ملتی ہے؟

خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی اس قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے شریک جرم ہے، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھےکیا وہ سندھودیش کےحامی ہیں؟ پیپلزپارٹی کی منافقت یہ ہےجنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبے کی حامی لیکن سندھ میں مخالف ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ پورے پاکستان میں سب سے زیادہ کثیراللسانی صوبہ ہے، جو سلوک 50 سالوں سے شہری علاقوں کے ساتھ جاری ہے کیا اس کی مثال کہیں اور ہے؟ پلاننگ کمیشن کی رپورٹ میں سب سے زیادہ غربت بڑھنے کی شرح سندھ میں ہے۔

ہم نے اپنے لیڈر کو پاکستان سے بڑا نہیں مانا، اس سے لا تعلق ہو گئے: ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان کسی سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

چیئرمین ایم کیو ایم نے کہا کہ مطالبہ کرتے ہیں آئین زندہ دستاویز ہے اس پر مکمل عمل کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ واحد ایم کیو ایم نے 10 کے بجائے 5 سال کے اندر دو مردم شماری کروائیں۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل (4)239 نئے صوبے بنانے کی اجازت دیتا ہے، پیپلز پارٹی اپنے ہی بانی کے آئین سے بےوفائی کر رہی ہے، آرٹیکل 140 اے آئین کا حصہ ہے جو پورے پاکستان کیلئے ہے، آئین ہی ہمیں پر امن جدوجہد اور احتجاج کی اجازت دیتا ہے، یہ قرارداد پاکستان کی تقسیم کی سازش ہے، انصاف ہی امن کی ضمانت ہے، امن انصاف کی ضمانت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کو 7 ڈسٹرکٹ میں تقسیم کس نے کیا، پیپلز پارٹی پہلے ہی کراچی کو ٹکڑے ٹکڑے کر چکی ہے، آئین کا آرٹیکل 48 کی شق 6 کسی بھی علاقے میں ریفرنڈم کا بھی اختیار دیتی ہے، یہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کر رہی، ہم ایک بار پھر توہین عدالت کی پٹیشن میں جائیں گے۔

چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اپنے ہی میئر کو اختیارات دینے کو تیار نہیں۔

انہوں نے مردم شماری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی آبادی کو 37 فیصد کم گنا گیا،  صدر اور سابق چیف جسٹس اس شہر کی آبادی 4 کروڑ بتا چکے ہیں۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کا کوئی اقدام پاکستان کے خلاف نہیں، بانی ایم کیو ایم نے ایک نعرہ لگایا ہم نے اس کو چھوڑ دیا، ہمارے لیے سب سے پہلے پاکستان ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کو صوبے کے حوالے سے ہم نے قبول کیا ہوا ہے، پاکستان کے مختلف علاقوں کی تاریخ تو ہزاروں سال پرانی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 72 سال قبل کوٹہ سسٹم لگایا گیا تھا، کوٹے کے تحت کبھی کسی ہاری کو تعلیم نہیں ملی،  پاکستان میں سب سے زیادہ غربت سندھ میں بڑھی ہے۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ وفاق سے سندھ کو 30 ہزار ارب روپے ملے ہیں، ان 30 ہزار ارب میں سے آدھے تو کراچی کو ملنے چاہیے تھے،  وفاق سے ملنے والی رقم لگتا ہے سندھ حکومت عیاشی پر خرچ کرتی ہے،  پیپلز پارٹی بھٹو کے نام پر کھاتی اور کماتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی کا کہنا پاکستان کے آئین انہوں نے کہا کہ میں سب سے زیادہ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کرتے ہوئے کے خلاف

پڑھیں:

پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔

اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔ 

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

مزید :

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن