عام آدمی کی فلاح وبہبود و ترقی ہماری ترجیح ہے: ایاز صادق
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
لاہور:(دنیا نیوز) سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ افغانستان پاکستان کے تحفظات کا ازالہ کرنے سے انکاری ہے۔
لاہور میں اپنے آبادی حلقے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز صادق کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف کا کہنا کہ تمہارے حلقے میں کوئی گلی کچی نہ رہے، پنجاب حکومت کے عوامی فلاح و بہبود کیلئے اقدمات لائق تحسین ہیں، وزیر اعلیٰ پنجاب نے حلقہ این اے 120 کو سب سے زیادہ فنڈز دیے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ عام آدمی کی فلاح اور ترقی ہماری ترجیح ہے، گلیوں اور سیوریج کے نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے، امن سے رہیں، اگر کوئی میلی آنکھ سے دیکھے گا تو افواج اس کا دفاع کرے گی، ملک انشااللہ ترقی کرے گا۔
سپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ بے گناہ شہریوں پر حملے کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں ہو گی، قوم متحد ہے، خوارج کے خلاف جنگ میں بھی فتح یاب ہوں گے۔
ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان کا آج دنیا کے ہر ملک کے ساتھ اچھا تعلق ہے، افغانستان سے بار بار کہا اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعال نہ ہونے دے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان پاکستان کے تحفظات کا ازالہ کرنے سے انکاری ہے، پاکستان جنگ نہیں چاہتا، جب جنگ مسلط کی جائے گی تو پھر پاکستان کو جواب دینا بھی آتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔