ایران کے نئے بحری دفاعی میزائل "صیاد G3" کی خصوصیات کیا ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
یہ میزائل تقریباً 150 کلومیٹر کی رینج، جہازوں سے عمودی لانچ (VLS) اور 360 ڈگری کوریج کی صلاحیت رکھتا ہے، اور ملک کی بحریہ کے فضائی دفاعی نظام کا حصہ ہے۔ گزشتہ دنوں آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک علاقے میں پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی مشق "اسمارٹ کنٹرول آف اسٹریٹ آف ہرمز" کے دوران پہلی بار بحری دفاعی میزائل "صیاد G-3" کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران نے حال ہی میں آبنائے ہزمز میں جنگی مشقوں کے دوران ایک صیاد ایئر ڈیفنس سسٹم کے بحری ورژن کامیاب تجربہ کیا ہے۔ "صیاد G-3" میزائل، جو عمودی لانچ کی صلاحیت اور 150 کلومیٹر تک علاقائی فضائی دفاعی چھتری قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، آبنائے ہرمز میں پاسدارانِ انقلاب کی مشق کے دوران کامیابی سے فائر کیا گیا۔ "صیاد G-3" میزائل، جو صیاد فضائی دفاعی میزائل خاندان کا بحری ورژن ہے، حال ہی میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کی مشق کے دوران آبنائے ہرمز میں فائر کیا گیا۔ یہ میزائل تقریباً 150 کلومیٹر کی رینج، جہازوں سے عمودی لانچ (VLS) اور 360 ڈگری کوریج کی صلاحیت رکھتا ہے، اور ملک کی بحریہ کے فضائی دفاعی نظام کا حصہ ہے۔ گزشتہ دنوں آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک علاقے میں پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی مشق "اسمارٹ کنٹرول آف اسٹریٹ آف ہرمز" کے دوران پہلی بار بحری دفاعی میزائل "صیاد G-3" کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔ صیاد میزائل خاندان کے بحری ورژن کے طور پر یہ نظام ملک کے جنگی بحری جہازوں کی فضائی دفاعی تہہ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ میزائل مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار کیا گیا ہے تاکہ جنگی جہازوں کے لیے درمیانی فاصلے تک فضائی دفاعی کوریج فراہم کی جا سکے۔ "صیاد G-3" جہازوں سے عمودی لانچ سسٹم کے ذریعے فائر کیا جاتا ہے، جو تیز رفتار ردعمل اور فضائی خطرات کے خلاف 360 ڈگری دفاع ممکن بناتا ہے۔ اس کی عملی رینج تقریباً 150 کلومیٹر بتائی گئی ہے، جو جنگی جہازوں کے گرد مؤثر دفاعی چھتری قائم کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ یہ میزائل مختلف فضائی خطرات، جن میں لڑاکا طیارے، میری ٹائم گشتی طیارے اور بلند پرواز بغیر پائلٹ طیارے شامل ہیں، کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ میزائل مربوط بحری کمانڈ اور کنٹرول نیٹ ورک کے تحت کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جہاز کے ریڈار سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ میزائل خودمختار طور پر بھی اہداف کی نشاندہی اور تعاقب کر سکتا ہے، جس سے بحریہ کی ردعمل کی صلاحیت اور آپریشنل لچک میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
صیاد میزائل خاندان اس سے قبل ملک کے زمینی فضائی دفاعی نظاموں میں استعمال ہو چکا ہے اور اپنی مؤثریت ثابت کر چکا ہے۔ "صیاد G-3" کا بحری ورژن، سمندری آپریشنل ماحول کے مطابق تکنیکی تبدیلیوں کے بعد، اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ متحرک اور پیچیدہ بحری حالات میں بھی درست اور قابلِ اعتماد کارکردگی دکھا سکے۔آبنائے ہرمز، جو دنیا کے اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، میں اس میزائل کا آپریشنل تجربہ علاقائی سلامتی کے استحکام کے حوالے سے ایک واضح پیغام رکھتا ہے۔ بحریہ کی فضائی دفاعی تہوں کو مضبوط بنانا ایران کی مسلح افواج کی اسٹریٹجک توجہ کو ظاہر کرتا ہے، جو ممکنہ خطرات کے مقابل ڈیٹرنس اور جامع دفاع کی ترقی پر مرکوز ہے۔ "صیاد G-3" کو ملکی فضائی دفاعی زنجیر کی تکمیل کی جانب ایک اور قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی صلاحیت رکھتا ہے دفاعی میزائل فضائی دفاعی عمودی لانچ یہ میزائل بحریہ کی کی بحریہ کے دوران کیا گیا صیاد G 3 کی مشق
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔