پاکستان کا بیرونی قرضہ زیادہ تر رعایتی اور طویل مدتی نوعیت کا ہے، وزارت خزانہ کا اعلامیہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
پاکستان کا بیرونی قرضہ زیادہ تر رعایتی اور طویل مدتی نوعیت کا ہے، وزارت خزانہ کا اعلامیہ WhatsAppFacebookTwitter 0 22 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وزارتِ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا بیرونی قرضہ زیادہ تر رعایتی اور طویل مدتی نوعیت کا ہے، مجموعی 138 ارب ڈالر کی رقم میں نجی اور دیگر واجبات بھی شامل ہیں جبکہ بیرونی عوامی (حکومتی)قرض تقریبا 92 ارب ڈالر ہے، جس پر اوسط سود تقریبا 4 فیصد بنتا ہے؛ سود کی ادائیگیوں میں حالیہ اضافہ عالمی شرحِ سود میں تیزی اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حاصل کردہ فنڈنگ کے تناظر میں ہوا، لہذا بیرونی قرضوں پر 8 فیصد تک سود کی ادائیگی کا تاثر درست نہیں۔
اپنے اعلامیہ میں وزارت خزانہ نے واضح کیا کہ پاکستان کا مجموعی بیرونی قرضہ اور واجبات اس وقت 138 ارب ڈالر ہیں۔ تاہم اس رقم میں صرف حکومتی قرض شامل نہیں بلکہ اس میں سرکاری اور سرکاری ضمانت شدہ قرضے، پبلک سیکٹر اداروں (ضمانت شدہ اور غیر ضمانت شدہ)کے قرضے، بینکوں کی بیرونی ذمہ داریاں، نجی شعبے کے قرضے اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاروں کے درمیان کمپنیوں کے باہمی واجبات بھی شامل ہیں۔ اس لیے اس مجموعی رقم کو بیرونی عوامی (حکومتی)قرض سے الگ سمجھنا ضروری ہے، جو تقریبا 92 ارب ڈالر ہے۔اسی طرح کل بیرونی عوامی قرض کا تقریبا 75 فیصد حصہ کثیرالجہتی اداروں (آئی ایم ایف کے علاوہ)اور دوطرفہ ترقیاتی شراکت داروں سے حاصل کردہ رعایتی اور طویل مدتی قرضوں پر مشتمل ہے۔ صرف تقریبا 7 فیصد قرض کمرشل بنیادوں پر لیا گیا ہے جبکہ مزید 7 فیصد طویل مدتی یورو بانڈز پر مشتمل ہے۔ اس صورتحال میں یہ تاثر درست نہیں کہ پاکستان بیرونی قرضوں پر 8 فیصد تک سود ادا کر رہا ہے۔
مجموعی طور پر بیرونی عوامی قرض پر اوسط شرح سود تقریبا 4 فیصد ہے، جو زیادہ تر رعایتی قرضوں کی عکاسی کرتی ہے۔سود کی ادائیگیوں کے حوالے سے بیرونی عوامی قرض پر سود کی رقم مالی سال 2022 میں 1.
مالی سال 2022 کے بعد قرضوں کے حجم میں معمولی اضافہ ضرور ہوا، لیکن زیادہ تر نئی رقوم رعایتی کثیرالجہتی ذرائع اور آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کے تحت ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی سے حاصل ہوئیں۔سال 2022-23 کے دوران پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کے شدید دبا کا سامنا رہا، جس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر ایک ماہ کی درآمدات سے بھی کم سطح پر آ گئے تھے۔ اس صورتحال میں حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ ای ایف ایف معاہدہ کیا اور دیگر کثیرالجہتی اور رعایتی ذرائع سے فنڈز حاصل کیے۔ ان اقدامات سے زرمبادلہ کے ذخائر کی بحالی اور بیرونی کھاتوں کی بہتری میں مدد ملی۔یہ بھی اہم ہے کہ سود کی ادائیگیوں میں اضافہ عالمی شرحِ سود میں اضافے کا نتیجہ بھی ہے۔ 2021-22 میں مہنگائی میں اضافے کے بعد امریکی فیڈرل ریزرو نے مئی 2022 میں شرح سود 0.75 تا 1.00 فیصد سے بڑھا کر جولائی 2023 تک 5.25 تا 5.50 فیصد کر دی۔ اگرچہ بعد میں یہ شرح کم ہو کر تقریبا 3.75 فیصد رہ گئی ہے، لیکن یہ اب بھی 2022 کی سطح سے کافی زیادہ ہے۔ عالمی سطح پر شرح سود میں اس اضافے نے قرض لینے کی لاگت بڑھائی ہے، جس کا اثر بیرونی سود کی ادائیگیوں پر بھی پڑا ہے۔حکومت ذمہ دارانہ قرض انتظام، شفافیت اور معیشت کے استحکام کے لیے پرعزم ہے۔ قرضوں سے متعلق اعداد و شمار کو درست تناظر میں پیش کرنا باخبر عوامی مباحثے کے لیے ضروری ہے، اور متعلقہ حلقوں سے گزارش ہے کہ پاکستان کے بیرونی قرضوں کی ساخت اور عالمی مالی حالات کو مدنظر رکھا جائے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم شہباز شریف کے دورہ روس کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہو گئیں وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ روس کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہو گئیں وزارت داخلہ کا سپینش ریذیڈنٹ کارڈ سے متعلق شہریوں کو مکمل سہولیات دینے کا فیصلہ وزیراعلی پنجاب نے سی ایم گرین ٹریکٹر پروگرام فیز 3کا باقاعدہ افتتاح کر دیا شیر افضل کی گفتگو مایوس کن، علیمہ نے مستعفی ہونے کا پیغام نہیں بھیجا، بیرسٹر گوہر پی ایچ ایف نے قومی کھیل کی بحالی اور اصلاحات کیلئے نئی ایڈہاک کمیٹی تشکیل دیدی دہشت گردی کا ناسور جڑ سے اکھاڑنے کیلئے قوم افواج پاکستان کیساتھ ہے، گورنر پنجاب سلیم حیدر خانCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: زیادہ تر رعایتی پاکستان کا
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔