ورزش کے بعد دودھ پینے سے بڑھاپے میں ہڈیاں مضبوط ہوسکتی ہیں، ماہرین صحت
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: ایک نئی تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ ورزش کے بعد دودھ پینا بڑھاپے میں ہڈیوں کو محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔اس تحقیق کے مطابق ورزش کے بعد دودھ پینا معمر افراد کو جان لیوا فریکچر (ہڈی ٹوٹنے) سے بچانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق مسلسل اور باقاعدگی سے ورزش بالخصوص اس بیماری سے نبرد آزما ہونے کی ٹریننگ کو طویل عرصے سے عضلاتی و ہڈیوں کی بیماریوں کے خلاف ایک مؤثر طریقہ سمجھا جاتا رہا ہے۔لیکن اب چینی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ بھرپور ایکسرسائز کے بعد ایک گلاس دودھ پینے کے معمول کو اپنا کر ہڈیوں کی کمزوری سے بچاؤ ممکن اور کافی موثر ثابت ہوسکتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق پروٹین کو طویل عرصے سے ہڈیوں کی صحت سے منسلک کیا جاتا رہا ہے کیونکہ یہ کیلشیم کے جذب کرنے کے عمل کو بڑھانے میں مدد دیتا ہے، جو ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے نہایت ضروری ہے اور بڑھاپے میں گرنے کی صورت میں ہڈی ٹوٹنے کے خطرے کو کم کرتا ہے۔
یہ تحقیقی رپورٹ جرنل آف نیوٹریشن، ہیلتھ اینڈ ایجنگ میں شائع ہوئی ہے، جس میں گائے کے دودھ اور سویا دودھ کو با آسانی استعمال ہونے والے پروٹین ذرائع کے طور پر موثر قرار دیا گیا ہے۔
اس تحقیق کے دوران 60 سال یا اس سے زائد عمر کے 82 صحت مند بالغ افراد کو شامل کیا گیا، جو ایسی کسی طبی حالت سے آزاد تھے جو ان کے پروٹین کے استعمال پر اثر انداز ہو سکتی ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ