Express News:
2026-07-24@01:50:03 GMT

جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے، سلسلہ کب تک؟

اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT

سیاست میں برداشت اور اعتدال کے لیے مشہور صدر آصف زرداری جو مفاہمت کے لیے مشہور ہیں نے پنجاب میں پیپلز پارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیر اعظم کو یاد دلایا کہ سیاست پھولوں کی سیج نہیں ہوتی بلکہ اس میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑتی ہیں، جیل جیل ہوتی ہے جہاں رویا دھویا نہیں جاتا بلکہ قید تو مردوں کی طرح برداشت کرنی چاہیے میں نے بھی 14 سال قید کارکنوں کے زور پر کاٹی۔ جیل میں پانی ہوتا ہے نہ دودھ۔ نیازی اپنے ٹائیگرز کی بات کرے وفاداری نہ ہو تو عہدہ نہیں رکھنا چاہیے۔ صدر مملکت نے اس موقع پر جیل میں قید سابق وزیر اعظم کو یاد دلایا کہ میری بہن کو بھی ان کی حکومت میں رات کے وقت پکڑا گیا تھا، اس وقت یاد نہیں آیا کہ برا وقت بھی آ سکتا ہے جو مکافات عمل کہلاتا ہے۔

آصف زرداری کو طویل عرصہ قید کاٹنے والا سیاستدان کہا جاتا ہے۔ انھوں نے ہمت سے قید کی مشکلات برداشت کی تھیں، کوئی واویلا نہیں کیا تھا اور ان کی فیملی نے بھی جیلوں کے باہر وہ کچھ نہیں کیا تھا جو بانی کی تین بہنیں مسلسل کر رہی ہیں اور بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بانی کی غیر سیاسی بہنیں اپنے بھائی کی قید پر سیاست چمکا رہی ہیں اور میڈیا میں آنے کے لیے غیر ذمے دارانہ بیان بازی بھی کر رہی ہیں اور ہر ہفتے ارکان اسمبلی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کو اڈیالہ آنے کو کہتی ہیں مگر کوئی ان کی نہیں سنتا اور دس ہزار تو دور کی بات ایک ہزار افراد بھی جمع نہیں ہوتے اور ان کا مجوزہ دھرنا بھی چند گھنٹے بعد ہی ختم کر دیا جاتا ہے۔

حال ہی میں بانی کے تفصیلی طبی معائنے کے موقع پر پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کو جیل میں طبی معائنے کے وقت آنے کی دعوت دی گئی تھی مگر کوئی نہیں پہنچا اور بعد میں پی ٹی آئی نے طبی معائنہ مسترد کر دیا اور ان کی بہن علیمہ خان نے تشویش کا اظہار کیا کہ بانی کو الشفا آئی اسپتال منتقل نہیں کیا گیا اور سرکاری ڈاکٹروں کی 5 رکنی ٹیم نے اڈیالہ آ کر معائنہ کیا اور اس معائنے میں بانی کے کسی ذاتی معالج کو شامل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے سرکاری ڈاکٹروں کی بنائی ہوئی میڈیکل رپورٹ بانی کی فیملی کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی۔

صدر مملکت کے علاوہ بانی کی حکومت میں گرفتار کیے جانے والے متعدد مسلم لیگی رہنما بھی آئے دن خود پر گزرے ہوئے جیلوں کے واقعات بتاتے رہتے ہیں کہ اس وقت کے منتقم مزاج وزیر اعظم کے ایما پر ان کے ساتھ جیلوں میں نہایت ابتر سلوک کیا جاتا تھا اور ان اسیروں کی جیلوں میں حالت زار خود آج کا سابق وزیر اعظم دیکھ کر نہ صرف خوش ہوتا تھا بلکہ مزید سختیاں کراتا تھا اور دھمکیاں دیتا تھا۔ ماضی کے (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے رہنما ہی نہیں بلکہ دونوں پارٹیوں کی قیادت کو بھی نیب کے ذریعے بے بنیاد مقدمات میں گرفتار کرا کر جیلوں میں رکھا جاتا۔ ان کے ساتھ غیر سیاسی و غیر انسانی سلوک کیا جاتا تھا۔ انھیں علاج کی وہ سہولتیں فراہم نہیں کی جاتی تھیں جو (ن) لیگ کی حکومت میں جیلوں میں بانی پی ٹی آئی اور پارٹی رہنماؤں کو حاصل ہیں۔

بعض وزیروں کے بقول بانی جیل میں وسیع جگہ میں رہ رہے ہیں جہاں انھیں ان کی پسند کا کھانا مل رہا ہے وہ وہاں واک اور ورزش کرتے ہیں اور وی وی آئی پی قید کاٹ رہے ہیں۔ بانی قید میں رہ کر اپنی بہنوں، پارٹی رہنماؤں اور وکیلوں سے ملاقات میں پارٹی کے لیے اہم ہدایات دیتے رہے۔ وزیر اعلیٰ تک انھوں نے جیل میں قید رہ کر تبدیل کرائے اور اپنی منفی سیاست کے ذریعے اپنی پارٹی سے دھرنے، احتجاج وغیرہ کراتے رہے جس پر حکومت نے پابندی لگائی۔ پاکستان میں بھٹو حکومت میں ان کے خلاف تحریک چلانے والے سیاستدانوں نے بھی سختیاں اور قید برداشت کی جس کے بعد جنرل ضیا الحق دور میں انھیں پھانسی کی سزا ہوئی جو ملک میں کسی وزیر اعظم کو دی گئی سب سے سخت سزا تھی۔

1988 کے بعد 1999 کے گیارہ سالوں میں بے نظیر بھٹو اور بے نظیر کے بعد میاں نواز شریف دو دو بار وزیر اعظم رہے اور دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف بھرپور نہ صرف انتقامی کارروائیاں کی تھیں اور مقدمات میں مخالفین کی گرفتاریاں بھی کرائی تھیں جس کے دوران دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف تحریک بھی چلائی جس کا بدلہ دونوں کو جنرل پرویز مشرف دور میں ملا اور دونوں کو جلاوطنی کے بعد اپنی غلطیوں کا احساس ہوا تو دونوں نے میثاق جمہوریت کیا جس کے بعد دونوں کی حکومتوں نے آرام سے پہلی بار اپنی اپنی مدت پوری کی تھی اور پکڑ دھکڑ اور انتقام سے گریز کرکے حکومت کی تھی۔

2018 میں پی ٹی آئی کے بانی نے اقتدار میں آ کر جنرل پرویز مشرف کی طرح دونوں سابق حکمران جماعتوں سے بھرپور انتقام لیا حالانکہ دونوں حکومتوں میں بانی کے خلاف کوئی پکڑ دھکڑ نہیں ہوئی تھی پھر بھی نہ جانے بانی نے پہلی بار اقتدار میں آ کر سابق حکمرانوں اور ان کے پارٹی رہنماؤں کی جو پکڑ دھکڑ اور دونوں سے سیاسی مخالفت کو دشمنی بنا دیا تھا جس کی سزا وہ آج خود جیل میں بھگت رہے ہیں۔

بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے سبق سیکھ لیا تھا جس کے بعد دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کی پہلے جیسی مخالف نہیں اور اتحادی ہیں اور دونوں کو اپنا دشمن سمجھنے والا جیل میں رہائی کے لیے واویلا کر رہا ہے مگر اپنے انداز حکمرانی کو درست سمجھ رہا ہے بلکہ اپنے 2018 کے محسنوں پر بھی دشمنوں کی طرح الزامات لگا رہا ہے اور اپنی منفی سیاست پر پشیمان بھی نہیں ہے۔ پی پی اور (ن) لیگ نے ایک دوسرے کے ساتھ جو کیا تھا اس کی سزا پا لی اس لیے جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے کا سلسلہ ختم ہونا اشد ضروری ہے اور ماضی سے سبق سیکھنے کا متقاضی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حکومت میں اور دونوں ایک دوسرے جیلوں میں پی ٹی آئی نہیں کیا کی حکومت جیل میں ہیں اور بانی کی کے خلاف نہیں کی کی تھی کے بعد اور ان کے لیے رہا ہے

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف