طالبان، بی ایل اے اور دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہیے، مصطفیٰ نواز کھوکھر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
اسکرین گریب/ ایکس
تحریک تحفط آئین پاکستان کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ طالبان، بی ایل اے اور دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہیے۔
اسلام آباد میں تحریک تحفط آئین پاکستان کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ حکومت سیاسی مصالحت کر پا رہی ہے نہ ہی کوئی فیصلہ۔
اس موقع پر اخوانزادہ حسین یوسفزئی نے کہا کہ ہمسایوں سے معاملات بات چیت سے حل ہونےچاہئیں۔
اخوانزادہ حسین یوسفزئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے انجیکشن کا دوسرا کورس 24 یا 25 تاریخ کو ہوگا، انہیں علاج کیلئے شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو اہل خانہ اور ڈاکٹر عاصم کی موجودگی میں اسپتال منتقل کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔