کراچی، رہائشی فلیٹس دھماکا، بم ڈسپوزل اسکواڈ کی تحقیقات میں اصل حقیقت سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
کراچی:
شہر قائد کے علاقے نارتھ ناظم آباد کے رہائشی فلیٹس میں ہونے والے دھماکے کی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں، جہاں بم ڈسپوزل اسکواڈ نے دھماکے کی اصل وجہ گیس لیکج قرار دے دی۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے سلنڈر دھماکے کے کوئی شواہد نہیں ملے جبکہ متاثرہ فلیٹس میں کسی پھٹے ہوئے سلنڈر یا اس کے پرزے بھی نہیں ملے۔
انچارج بم ڈسپوزل اسکواڈ عابد کا کہنا ہے کہ گیس کے پائپ لفٹ کے قریب سے گزر رہے تھے، جس کے باعث شدید نوعیت کا دھماکہ ہوا اور لفٹ بھی گر گئی۔
مزید پڑھیںکراچی؛ گیس سلنڈر دھماکے سے رہائشی عمارت میں آگ بھڑک اٹھی، ایک فرد جاں بحق
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ممکنہ طور پر گھر میں گیس کا چولہا کھلا رہ گیا تھا اور اچانک گیس آنے سے فلیٹ میں گیس بھر گئی جس نے دھماکے کی شکل اختیار کرلی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز نارتھ ناظم آباد بلاک ای کے رہائشی اپارٹمنٹس میں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے نتیجے میں ایک بچہ جاں بحق جبکہ چار افراد زخمی ہوگئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بم ڈسپوزل اسکواڈ
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔