پنجاب حکومت کا کارپوریٹ سیکٹر کے لیے بڑا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
لاہور:
حکومت پنجاب نے کارپوریٹ سیکٹر کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے میں مرجرز کے نتیجے میں پراپرٹی ٹرانسفر پر اسٹامپ ڈیوٹی ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
یہ نوٹیفکیشن لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے فیصلے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق عدالت اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) سے منظور شدہ مرجر اسکیمیں اسٹامپ ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ کمپنیز ایکٹ کے تحت انضمام کی صورت میں پراپرٹی ٹرانسفر کو استثنا حاصل ہوگا اور انضمام کے نتیجے میں جائیداد کی منتقلی پر اسٹامپ ڈیوٹی عائد نہیں کی جائے گی۔
دوسری جانب ایس ای سی پی نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ ری اسٹرکچرنگ میں رکاوٹ دور ہونے پر ایس ای سی پی نے عدالت اور حکومتِ پنجاب کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔