لاہور ہائیکورٹ نے دادا کی جائیداد سے بچوں کی کفالت کے معاملے پر قانونی پوزیشن واضح کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دادا کی وفات کے بعد اس کی جائیداد سے بچوں کی کفالت کا حق ختم نہیں ہو جاتا۔ بچوں کے نان نفقہ کی ذمہ داری صرف باپ تک محدود نہیں۔

عدالت نے کہا کہ دادا نے عدالتی حکم پر بچوں کو عبوری خرچہ دے کر اپنی ذمہ داری کا اعتراف کیا تھا۔ حالات کے مطابق بچوں کےنان ونفقہ کافیصلہ ہوگا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ فیملی ایکٹ کے تحت بچوں کی کفالت کا دائرہ کار محدود نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کیس ازسرنوسماعت کے لیے ٹرائل کورٹ واپس بھیج دیا اور کہا کہ ٹرائل کورٹ مزید شہادتیں لےکرازسرنوکیس کافیصلہ کرے۔

عدالت نے کہا کہ دادا کی جائیداد منتقلی اور اس کے قانونی وارثوں کی ذمہ داریوں کا ازسرنو تعین ضروری ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عاصم حفیظ نےتحریری فیصلہ جاری کیا۔

عدالت کا تحریری فیصلہ 4 صفحات پر مشتمل ہے۔ عدالت نے بچوں کےچچا محمد سعید کی درخواست کا فیصلہ سنایا۔ درخواست گزاربچوں کا چچا ہے اس پران بچوں کےخرچے کی ذمہ داری نہیں ڈالی جا سکتی۔

ورثا کا موقف تھا کہ بچوں کا دادا ایک خوشحال شخص تھا جس نے زندگی میں بچوں کا خرچہ خود اٹھایا۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل عدالت نے بچوں کے کہا کہ

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ