یوٹیوبر رجب بٹ کو ایک بار پھر شدید تنقید کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
رجب بٹ جو ایک مشہور یوٹیوبر اور فیملی ولاگر ہیں، اور ملک کے سب سے متنازع یوٹیوب سلیبریٹی میں شمار کیے جاتے ہیں، ایک بار پھر تنازعے کی زد میں آ گئے ہیں۔ ان کے خاندان نے ہمیشہ ان کے تمام اقدامات کی حمایت کی ہے، چاہے وہ ذاتی زندگی کے مسائل ہوں یا قانونی مقدمات کا معاملہ ہو۔ اب ان کے خاندان پر بچوں سے مشقت کرانے کے الزام کے باعث تنقید ہورہی ہے، پاکستان میں بچوں سے مشقت کرانا غیر قانونی ہے اور اخلاقی طور پر بھی قابل قبول نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک 9 سالہ بچہ رجب بٹ کے گھر کام کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ویڈیو میں رجب بٹ کی والدہ کو بچے کے ساتھ دکھایا گیا ہے جو گھر کی صفائی کررہا ہے۔ انٹرنیٹ صارفین نے اس پر شدید ردعمل دیا اور خاندان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لوگ ایسے جاہلوں کی پیروی کرتے ہیں، یہ لوگ بچوں کی محنت کو کس کھلے عام فروغ دے رہے ہیں۔ یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد رجب بٹ کے خاندان پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔