اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے شہر میں سیکیورٹی سخت کرنے اور جرائم کی روک تھام کے لیے موٹر سائیکلوں پر بھی ایم ٹیگ لازمی قرار دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت شہری چند منٹ میں اپنی بائیکس پر جدید شناختی ٹیگ لگوا سکیں گے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق شہر بھر میں قائم تیرہ مخصوص مراکز پر موٹر سائیکل ایم ٹیگ سروس شروع کر دی گئی ہے جہاں شہری اپنی موٹر سائیکل، ملکیتی کاغذات اور شناختی کارڈ کے ہمراہ پہنچ کر صرف پانچ منٹ میں ٹیگ حاصل کر سکتے ہیں، اس نظام کا مقصد موٹر سائیکلوں کی درست شناخت، چوری شدہ گاڑیوں کی فوری نشاندہی اور جرائم پیشہ عناصر کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا ہے۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ جلد از جلد اپنی بائیکس رجسٹر کروا کر ایم ٹیگ لگوائیں تاکہ آئندہ کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے، بغیر ایم ٹیگ موٹر سائیکل چلانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی جس میں جرمانے اور ممکنہ طور پر گاڑی ضبطی بھی شامل ہو سکتی ہے۔

انتظامیہ کے مطابق یہ اقدام جدید شہری سیکیورٹی نظام کا حصہ ہے جس کے ذریعے مشکوک گاڑیوں کی نگرانی، ٹریفک نظم و ضبط اور جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی، بڑے شہروں میں اس نوعیت کے ڈیجیٹل ٹیگنگ نظام پہلے ہی مؤثر ثابت ہو چکے ہیں اور دارالحکومت میں اس کا نفاذ شہری تحفظ کو مزید مضبوط بنائے گا۔

شہریوں نے اس فیصلے پر ملا جلا ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ کچھ افراد نے اسے سیکیورٹی کے لیے مثبت قدم قرار دیا ہے جبکہ بعض نے سہولت مراکز کی تعداد بڑھانے اور آگاہی مہم چلانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عوام کو طریقہ کار سے مکمل طور پر آگاہ کیا جا سکے۔

ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اس اقدام میں تعاون کریں اور مقررہ مراکز سے بروقت ایم ٹیگ حاصل کریں تاکہ شہر میں امن و امان کے قیام اور جرائم کے خاتمے میں اجتماعی کردار ادا کیا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل اور جرائم ایم ٹیگ

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا