ڈپٹی کمشنرمٹیاری کا مختلف مارکیٹوں کادورہ، قیمتیں چیک کیں
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مٹیاری (نمائندہ جسارت)رمضان المبارک کے دوران ڈپٹی کمشنر مٹیاری محمد یوسف شیخ نے شہر مٹیاری کا دورہ کیا اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں اور انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر مٹیاری عبدالستار شیخ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے سبزی و پھل مارکیٹس، گوشت اور مچھلی مارکیٹس سمیت بچت بازار کا دورہ کیا اور مقررہ سرکاری نرخوں پر عملدرآمد کو سختی سے چیک کیا۔ انہوں نے بچت بازار میں قائم چینی اور آٹے کے اسٹالز کا بھی معائنہ کیا اور عوام کو مناسب قیمتوں پر اشیاء کی فراہمی کی ہدایت کی۔ڈپٹی کمشنر نے شہر میں صفائی ستھرائی اور روشنی کے انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ رمضان المبارک کے دوران صفائی، اسٹریٹ لائٹس کی بحالی اور بہتر ماحول کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے سیکیورٹی انتظامات کا بھی جائزہ لیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ بچت بازاروں اور مارکیٹس میں عوام کی سہولت اور حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے شہر کے اہم اور نمایاں مقامات پر رمضان المبارک کے حوالے سے آگاہی کے لیے نصب کیے گئے بڑے پینا فلیکس کا بھی معائنہ کیا تاکہ عوام کو سرکاری نرخوں اور انتظامی ہدایات سے آگاہی حاصل ہو سکے۔ڈپٹی کمشنر نے تاجروں کو سختی سے ہدایت کی کہ سرکاری نرخ نامہ نمایاں مقامات پر آویزاں کریں اور مقررہ قیمتوں کے مطابق ہی اشیاء فروخت کریں، بصورت دیگر قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران عوام کو ریلیف فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رمضان المبارک کے ڈپٹی کمشنر انہوں نے کے دوران
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔