ایم کیو ایم نے سندھ اسمبلی کی نئے صوبوں کی مخالفت میں قرارداد کو آئین کے خلاف قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی میں آئین کے خلاف قرار داد پیش اور منظور کی گئی، جو پیپلز پارٹی نے کسی خوف کے سائے میں منظور کی، اور اس سے لگتا ہے کہ ایک صوبہ پاکستان کے آئین سے بالاتر سمجھا جا رہا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کا حل مکالمے سے نکلتا ہے اور ایم کیو ایم ہمیشہ امن سے رہنے کی خواہاں رہی ہے۔ اب پارٹی کے لیے فیصلہ کن موڑ آ گیا ہے۔
مزید پڑھیں: سندھ اسمبلی: نئے صوبوں کی تجاویز کے خلاف قرارداد منظور، کراچی سندھ کا جدا نہ ہونے والا حصہ قرار
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی بھی صوبے کی اسمبلی پاکستان کے آئین کے خلاف قرارداد منظور کر سکتی ہے، جب کہ سب شہری ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن ان کے پاس کوئی اختیار نہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ ایم کیو ایم پاکستان سے محبت کرنے والی جماعت ہے اور دھرتی ماں پاکستان کے صوبے اس کے حصے ہیں۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ 1947 سے شروع ہوتی ہے اور ان کے ہوتے ہوئے سندھودیش کا خواب کبھی حقیقت نہیں بن سکتا۔
چیئرمین ایم کیو ایم نے یہ بھی کہا کہ 170 سیٹیں لینے والا جیل میں ہے جبکہ 80 سیٹیں لینے والا حکومت میں ہے، اور ایک مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت سندھ پر قابض ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی جعلی مردم شماری کے ذریعے سندھ پر قابض ہے اور لسانیت کی بنیاد پر تقسیم کو فروغ دے رہی ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے جماعت اسلامی کو بھی اس قرارداد کی حمایت پر شریک جرم قرار دیا اور کہا کہ حافظ نعیم سے پوچھا جائے کہ کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں۔
انہوں نے پیپلز پارٹی پر الزام لگایا کہ وہ جنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبے کی حامی ہے لیکن سندھ میں مخالفت کرتی ہے۔
چیئرمین نے سندھ کو سب سے زیادہ کثیراللسانی صوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہری علاقوں کے ساتھ 50 سال سے جاری سلوک کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئین ایک زندہ دستاویز ہے اور اس پر مکمل عمل کیا جائے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم نے پانچ سال کے اندر دو مردم شماری کروائی ہیں جبکہ دیگر جماعتیں ایسا نہیں کرتیں۔
انہوں نے پیپلز پارٹی پر الزام لگایا کہ وہ اپنے ہی بانی کے آئین سے بے وفائی کر رہی ہے اور سندھ میں پاکستان کی تقسیم کی سازش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کراچی کو سات ڈسٹرکٹ میں تقسیم کیا گیا اور آئین کے آرٹیکل 48 کی شق 6 کے تحت ریفرنڈم کا اختیار موجود ہے، جس پر حکومت عملدرآمد نہیں کر رہی۔
خالد مقبول صدیقی نے مردم شماری اور وسائل کی تقسیم پر بھی تنقید کی، بتایا کہ کراچی کی آبادی کو 37 فیصد کم گنا گیا اور وفاق سے سندھ کو ملنے والی 30 ہزار ارب روپے کی رقم میں آدھے کراچی کو ملنے چاہیے تھے، مگر سندھ حکومت اسے عیاشی پر خرچ کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: نئے صوبے ملک کے مفاد میں ہیں، مخالفت کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا، عبدالعلیم خان
انہوں نے زور دیا کہ ایم کیو ایم کا کوئی اقدام پاکستان کے خلاف نہیں، اور بانی ایم کیو ایم کے سابق نعرے کو چھوڑ کر سب سے پہلے پاکستان کو مقدم رکھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ سندھ کو صوبے کے حوالے سے قبول کیا گیا ہے اور پاکستان کے مختلف علاقوں کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایم کیو ایم پیپلز پارٹی خالد مقبول صدیقی متحدہ قومی موومنٹ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم پیپلز پارٹی خالد مقبول صدیقی متحدہ قومی موومنٹ وی نیوز خالد مقبول صدیقی نے کہا کے خلاف قرار پیپلز پارٹی ایم کیو ایم پاکستان کے انہوں نے آئین کے ہے اور رہی ہے کہا کہ
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔