ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کو جاری رکھنا ایک اہم کام تھا‘شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ، شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ متعدد چیلنجز کے باوجود ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کو جاری رکھنا ایک اہم کام تھا۔ صورتحال اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ پروجیکٹ کو معطل کرنے پر غور کیا جا رہا تھا، کیونکہ اس کی لاگت بہت بڑھ گئی تھی، مہنگائی بڑھی، معیشت کساد بازاری کا شکار ہوئی، ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا اور سیمنٹ مہنگا ہو گیا۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جب فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ پروجیکٹ جاری رکھا جائے یا روکا جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریڈ لائن بی آر ٹی کے ترقیاتی کام کا جائزہ لیتے ہوئے میڈیا سے گفتگو میں کیا۔ اس موقع پر سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سی ای او ٹرانس کراچی فواد غفار سومرو اور دیگر حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ منصوبہ صرف آج کے لیے نہیں بلکہ اگلے چالیس سے پچاس سال کے لیے ہے۔ یہ پروجیکٹ آئندہ نسلوں کے لیے بنایا جا رہا ہے تاکہ کراچی میں بڑھتی ہوئی ٹریفک اور آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرانسپورٹ اور موبلٹی بہتر کی جا سکے۔ اس طرح کے منصوبوں سے لوگ مستقبل میں آسانی سے سفر کرسکیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا