بھارتی فورسز کو بڑا دھچکا ‘3 کشمیری بچے قید سے فرار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260223-01-11
سری نگر(آن لائن)بھارتی فورسز کو بڑا دھچکا تین کشمیری بچے قید سے فرار ممکنہ طورپر2 کا تعلق آزاد جموں کشمیر سے ہے، بھارت کے زیر قبضہ جموں میں قائم ایک آ بز ر و یشن ہوم(بچوں کی جیل)سے 3 بچے پہرہ پر موجود انڈین فورسز کے اہل کاروں پر حملہ کر کے انہیں زخمی کر کے فرار ہوگئے، ان قیدی بچوں میں جموں کے علاقے آر ایس پورہ کے رہائشی غیر مسلم کشمیری بچہ کارجیت سنگھ عرف گگا بھی شامل ہے، خدشہ ہے کہ اس فراری منصوبے کا ماسٹر مائنڈ وہ ہی نہ ہو، اس کے ساتھ گرفتار 2 بچے ثنا للہ اور احسن انور نام سے ظاہر کیے گئے ممکنہ طورپر یہ بچے پاکستان اور بھارت کے درمیان ریاست جموں کشمیر کو تقسیم کرنے والی منحوس خونی لکیر سے گرفتار وہ بچے ہو سکتے ہیں، جو راستہ بھول جانیپر بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر داخل ہوئے،جنہیں قابض فورسز نے گرفتار کر لیے تھے، ان بچوں کے فرار ہونے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کر کے تلاشی مہم تیز کر دی ہے کہ انہیں دوبارہ گرفتار کیا جا سکے، جموں کشمیر میں بھارتی قید سے فرار ہونے کی بنیاد جدید گوریلا جنگ کے بانی اور تحریک آزادی کے سرخیل مقبول بٹ نے رکھی تھی، جب وہ جیل توڑ کر ننگے پائوں برفانی پہاڑ عبور کر کے مظفرآباد پہنچے تھے، مگر انہیں یہاں واپس گرفتاری کر کے جیل ڈالا گیا اور اب نصف صدی بعد نام نہاد اٹیمی ملک بھارت کی قید سے 2 مسلمان اور ایک غیر مسلم کشمیری بچے نے فرار ہو کر بھارت کی نام نہاد جنگی طاقت کا غرور جوتے تلے روند ڈالا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کا عشق پاکستانی نوجوان کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار لے گیا۔
پاکستان نے 30 اور 31 مئی کی درمیانی شب مقبوضہ بھارتی علاقے اُڑی پہنچنے والے پاکستانی نوجوان ذیشان میر کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست دے دی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نئی دلی نے بھارتی وزارت خارجہ کو ذیشان میر کے بارے میں خط لکھا ہے۔