بنگلادیش: جماعت کے رکن اسمبلی کی ناگَد میں سرمایہ کاری لانے کی کوشش
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260223-01-7
ڈھاکا(نمائندہ خصوصی)بنگلادیش جماعتِ اسلامی کے نو منتخب رکن پارلیمنٹ میر احمد بن قاسم ارمان نے مشکلات کا شکار موبائل فنانشل سروس فراہم کرنے والے ادارے Nagad میں نئی سرمایہ کاری لانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ناگَد اس وقت بنگلادیش بینک کے مقرر کردہ ایڈمنسٹریٹر کے زیر انتظام ہے۔ارمان، شہید جماعت اسلامی کے رہنما میر قاسم علی کے صاحبزادے ہیں۔ ان کے مطابق 8 فروری کو، 13ویں پارلیمانی انتخابات سے تین روز قبل، انہوں نے Bangladesh Bank کے گورنر کو خط لکھ کر ادارے کے مالی حالات کا جائزہ لینے کے لیے آڈٹ کی اجازت طلب کی تھی، تاکہ ممکنہ سرمایہ کاری سے قبل ناگَد کی اصل پوزیشن کا تعین کیا جا سکے۔میر احمد بن قاسم ارمان کے مطابق سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنا ایک شہری کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملکی اور غیر ملکی ملٹی نیشنل سرمایہ کار اداروں کے لیے مقامی رابطہ کار کے طور پر کام کر رہے ہیں، اسی لیے سرمایہ کار ناگَد میں سرمایہ کاری سے قبل فرانزک آڈٹ کرانا چاہتے ہیں۔ارمان نے انکشاف کیا کہ وہ ماضی میں عوامی لیگ کے دورِ حکومت میں تقریباً آٹھ برس تک جبری گمشدگی کا شکار رہے۔ انہیں 2016 میں میرپور سے حراست میں لیا گیا تھا اور 6 اگست 2024 کو، شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے کے ایک روز بعد، رہائی ملی۔ وہ برطانیہ سے تربیت یافتہ وکیل ہیں اور بدنام زمانہ حراستی مرکز ‘‘عین الغار’’ میں قید افراد میں شامل رہے ہیں۔ادھر بنگلادیش بینک کے گورنر احسن ایچ منصور نے بتایا کہ مرکزی بینک کو ناگَد کے حوالے سے متعدد تجاویز موصول ہو چکی ہیں، تاہم تاحال کسی تجویز کو سنجیدہ مرحلے تک نہیں سمجھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عبوری حکومت ناگَد کو دوبارہ نجی شعبے کے حوالے کرنا چاہتی تھی، تاہم اب اس بارے میں فیصلہ نئی حکومت کرے گی۔واضح رہے کہ ناگَد نے 2019 میں بطور بنگلادیش پوسٹ آفس کے مالیاتی ادارے کے طور پر کام شروع کیا تھا اور یہ اب بھی مرکزی بینک کے عارضی لائسنس کے تحت کام کر رہا ہے۔ اگست 2024 میں بنگلادیش بینک نے مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے باعث ادارے میں ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا تھا۔مرکزی بینک کے مقرر کردہ فرانزک آڈیٹر اور بعد ازاں اینٹی کرپشن کمیشن کی تحقیقات میں سابقہ انتظامیہ کے دور میں تقریباً 2,300 کروڑ ٹکا کی بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے ابتدائی شواہد سامنے آئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری بینک کے
پڑھیں:
دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
سٹی 42:سہیل آفریدی نے احتجاج کی کال دیتےہوئے کہا اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔
وزیر اعلی کے پی فیکٹری ناکہ سے واپس روانہ ہو گئے ۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی کی فیکٹری ناکہ سے روانگی سے قبل میڈیا ٹاک میں کہا اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔2026-27کا بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں،مطالبہ کے کہ کے پی حکومت بانی کی ہے۔کے پی عوام نے بانی کو ووٹ دیا وہ انکو چاہتی ہے ۔کے پی عوام چاہے گی کہ بجٹ بانی کی خواہشات کے مطابق بنے ۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بجٹ کے حوالے سے میری اور وزیر خزانہ سے ملاقات ہو تاکہ ان سے بجٹ کی اپروول لے سکیں۔ہم کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک پٹیشن دائر کرنے جا رہے ہیں،امید ہے اس دفعہ ہمیں ملاقات کی اجازت دی جائے گی،آج بھی بانی کی فیملی سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی۔بانی نے کوئی جرم نہیں کیا،انکو اغوا کرکے ناحق قید رکھا گیا ہے۔
پنجاب کی جعلی حکومت،جیل انتظامیہ کی وجہ سے بانی کی آنکھ میں مسئلہ ہوا،عوام میں تشویش ہے کہ بانی کی ملاقات بند ہے،وہ اندر کیا کر رہے ہیں کہ تمام چیزیں روکی ہوئی ہیں۔یہ کیوں ملاقات نہیں کروا رہے،کے پی سے امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے،میں نے ملاقات کا مطالبہ کرکےکوئی غلط ڈیمانڈ نہیں کی۔کے پی میں عوام نے بانی کو مینڈیٹ دیا یہ انکا حق ہے کہ بجٹ بانی کی مرضی کے مطابق ہو ۔ کے پی کا وزیر اعلی بانی تبدیل کر سکتے ہیں باقی کسی میں جرات نہیں،وہ ہلا بھی سکے ۔محسن نقوی سے ملاقات بیرسٹر گوہر کے کہنے پر ہوئی ۔افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے،وہاں پر کیا انٹرسٹ ہو سکتا ہے اگر ہم ان سے لڑائی کریں ۔کسی کی خوشنودی کے لئے ان سے تعلقات خراب ہو رہے ہیں،
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
بجٹ میں بانی کی ہدایات کو شامل کیا گیا ہے،سوشل ویلفیئرتعلیم،صحت کو شامل کیا گیا ۔بانی نے کہا تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں پاکستان کو ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیئے
2026میں پاکستان انکے مشورے پر عمل کرتا ہے تو دنیا میں اسکی واہ واہ ہوتی ہے ۔ہر بندہ بولتا ہے کہ کرپشن ہو رہی ہے میں نے وزیراعلی کے دروازے کھلے رکھے ہیں کرپشن کے ثبوت لائیں۔