نوجوان نسل شدید دباؤ میں
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آج کی نوجوان نسل اپنے مستقبل کے ساتھ ساتھ مالی پریشانیوں، رہائش کا مسئلے اور جمہوریت کے حوالے سے خوف کا شکار ہے، جبکہ سوشل میڈیا نوجوانوں کی نفسیات کو سب سے زیادہ متاثر کر رہا ہے۔جرمنی کے نوجوانوں کی زندگیوں میں تشویش اور بے چینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بہت سے نوجوانوں کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ مستقبل میں ان کے پاس روزمرہ زندگی کے اخراجات پورا کرنے کے لیے کافی رقوم نہیں ہوں گی اور نہ ہی وہ خود اپنی رہائش کا بندوبست کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ صحت، جمہوریت کے مستقبل اور جنگ میں بھیجے جانے کا خوف بھی انہیں ستائے ہوئے ہے۔سروے کے مطابق لڑکیوں میں سے 75 فیصد سے زائد کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں ان کے پاس زندگی گزارنے کے لیے کافی رقم نہیں ہو گی، جبکہ لڑکوں میں یہ شرح نصف سے کچھ زیادہ ہے۔ تقریباً 60 فیصد نوجوانوں کو یہ فکر لاحق ہے کہ وہ کبھی اپنا فلیٹ یا گھر کرائے پر بھی نہیں لے سکیں گے۔50 فیصد لڑکیاں اور 30 فیصد لڑکے اکثر یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپنے مسائل میں تنہا ہیں۔اس سروے سے یہ بھی پتہ چلا کہ نوجوان روزانہ اوسطاً تین گھنٹے سے زیادہ سوشل میڈیا (سنیپ چیٹ، انسٹاگرام، ٹک ٹاک وغیرہ) پر صرف کرتے ہیں۔ ان میں سے 75 فیصد سے زائد کو سوشل میڈیا کی وجہ سے دباؤ محسوس ہوتا ہے، جبکہ لڑکیوں میں یہ شرح تقریباً 88 فیصد ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔