رجب بٹ نئی مشکل میں پھنس گئے؛ سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
معروف یوٹیوبر اور ولاگر رجب بٹ ایک بار پھر تنازع کی زد میں آ گئے ہیں اور اس بار معاملہ زرا مختلف ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں رجب بٹ کی والدہ کو ایک کم عمر بچے کے ساتھ دیکھا گیا۔
جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ ان کے گھر میں صفائی ستھرائی کا کام رہا ہے۔ ویڈیو کے منظرِ عام پر آتے ہی صارفین کی بڑی تعداد نے اسے چائلڈ لیبر قرار دیتے ہوئے سخت تنقید شروع کر دی۔
یاد رہے کہ پاکستان میں کم عمر بچوں سے مشقت کروانا قانوناً جرم ہے جبکہ سماجی طور پر بھی اسے ناپسندیدہ عمل سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ ملک میں مختلف مقامات پر بچوں سے کام لینے کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں تاہم کسی معروف سوشل میڈیا شخصیت کے گھر سے اس نوعیت کی ویڈیو سامنے آنا صارفین کے لیے خاصا چونکا دینے والا ثابت ہوا۔
سوشل میڈیا پر صارفین نے کہا کہ ایسے رویے معاشرے میں غلط مثال قائم کرتے ہیں جب کہ کچھ صارفین نے سوال اٹھایا کہ معروف شخصیات اس طرح کے معاملات میں زیادہ ذمہ داری کیوں نہیں دکھاتیں۔
ایک صارف نے لکھا کہ لوگ ایسے افراد کو فالو کرتے ہیں جو خود قانون اور اخلاقیات کی پروا نہیں کرتے جب کہ ایک اور تبصرے میں کہا گیا کہ کھلے عام چائلڈ لیبر کو معمول بنا کر دکھایا جا رہا ہے۔
تاحال رجب بٹ یا ان کے خاندان کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو چاہیے کہ وہ اپنے طرزِ عمل میں زیادہ احتیاط برتیں کیونکہ ان کے اقدامات لاکھوں لوگوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سوشل میڈیا
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔